Verbs

حرف


حرف ایک ایسا کلمہ ہے جو کسی شخص، چیز یا جگہ کا نام نہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ کسی کام کا ہونا یا کرنا ظاہر کرتا ہے۔ حرف وہ کلمہ ہے جو اسم اور فعل کو آپس میں ملاتا ہے تاکہ جملے کی اور خود حرف کی سمجھ پیدا ہو۔اکیلے حرف کا کوئی معنی سمجھ نہیں آتا۔ اس کا مطلب تب ہی واضح ہوتا ہے جب وہ کسی جملے اسم اور فعل کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔مثال کو طور پر :

۱۔ ’’علی اور عامر آئے‘‘۔ اس جملے میں  لفظ ’’اور‘‘ حرف ہے۔

۲۔ ’’میں گھر تک گیا‘‘۔ اس جملے میں لفظ ’’تک‘‘ حرف ہے جو ایک اسم اور فعل کو ملا رہا ہے۔

حرف کی بہت سی اقسام ہیں جو روز مرہ کے معاملات میں استعمال ہوتی ہیں۔ وہ  اقسام یہ ہیں : حروفِ جار۔   حروفِ عطف۔ حروف شرط۔ حروف ندا۔حروف تاسف۔  حروف تشبیہ۔  حروف اضافت۔ حروف استفہام۔ حروف تحسین۔ حروف نفرین۔

۱۔ حروف جار (prepositions) :

یہ وہ حروف ہیں جو اسم اور فعل کو آپس میں ملاتے ہیں۔ مثلاً  ’’کتاب اور قلم میز پر رکھ دو‘‘ ۔ اس جملے میں لفظ  ’’پر‘‘ حرف جار ہے۔ اُردُو  زبان میں  عام طور پر استعمال ہونے والے حروف جار یہ ہیں: کو، پر، میں، سے، تک، تلک، اوپر، نیچے، درمیان، ساتھ، بیچ، اندر، باہر ۔

۲۔ حروف عطف (connectives/conjunctions):

حروف عطف وہ حروف ہیں جو دہ اسموں یا دو جملوں کو آپس میں ملانے کا کام کرتے ہیں۔  مثال کے طور پر  ’’کتاب اور قلم میز پر رکھ دو‘‘۔ اس جملے میں ’’اور‘‘ حرف عطف ہے۔ ’’اسلم ناشتہ کر کے دفتر چلا گیا‘‘ اس جملے میں ’’کر‘‘ حرف عطف ہے۔

’’آمنہ نے کتاب پڑھی اور سو گئی‘‘۔ اس جملے میں ’’اور‘‘ حرف عطف ہے۔ ’’مرد و عورت سب برابر ہیں‘‘۔ اس جملے میں ’’و‘‘ حرف عطف ہے۔   اردو زبان میں استعمال ہونے والے حروف عطف یہ ہیں: اور، و، نیز، بھی، پھر، کر وغیرہ۔

۳۔ حروف شرط (if):

یہ وہ حروف ہیں جو شرط کے زُمرے میں بولے جائیں۔ جس میں کسی کام کا ہونا کسی دوسرے کام سے مشروط ہو۔ مثال کے طور پر ’’ اگر وہ محنت کرتا تو کامیاب ہوتا‘‘۔ اس جملے میں ’’ اگر‘‘ حرف شرط ہے۔ ’’ جب تک مہنگائی رہے گی لوگ خوشحال نہیں ہو سکیں گے‘‘  ۔ اس جملے میں ’’جب تک‘‘ حرف شرط ہے۔ مشہور حروف شرط یہ ہیں: اگر، گر، اگرچہ، جب، جب تک، تا وقتیکہ، جوں جوں، جوں ہی۔

۴۔ حروف ندا:

یہ وہ حروف ہیں جو کسی کو پکارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً   ’’ارے بھائی! ذرا بات سننا۔‘‘ اس جملے میں ’’ارے‘‘ حرف ندا ہے۔ یہ   عام زبان میں استعمال ہونے والے حروف ندا  ہیں: ارے! ، ابے!  ، او! ، اوئے!،  اجی!،   اے!

۵۔ حروف تاسف (expressions of sadness):

حروف تاسف وہ حروف ہیں جو کسی غم یا افسوس یا تکلیف  کے اظہار   کے طورپر بولے جائیں۔ مثال کے طور پر ’’ ہائے مجھے بہت درد ہورہا ہے۔‘‘ ’’افسوس انسان غفلت کا شکار ہے  ۔‘‘ ان جملوں میں ’’ہائے‘‘ اور ’’افسوس‘‘ حروف تاسف ہیں۔ عام طور پر بولے جانے والے حروف تاسف یہ ہیں: افسوس صد افسوس۔ ہائے ہائے۔ اُف۔ اوہ۔

۶۔ حروف تشبیہ (words like, same as, just like etc):

یہ وہ حروف ہیں جو ایک چیز کو کسی دوسری چیز کی مانند یا اس کے جیسا قرار دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً   ’’موتی جیسے دانت‘‘۔’’ بھیڑیے کی مانند ظالم۔‘‘  ’’برف کی طرح ٹھنڈا‘‘

ان مثالوں میں  ’’جیسے، مانند، ٹھنڈا‘‘ حروف تشبیہ ہیں۔ مشہور حروف تشبیہ یہ ہیں: مانند۔ مثل۔ طرح۔ سا۔ جیسے۔ جوں ۔ ہو بہو۔ عین۔

۷۔ حروف اضافت (substitute of apostrophe):

یہ وہ حروف ہیں جو صرف اسم کے باہمی تعلق یا لگاو ٔ کو ظاہر کریں۔  مثلاً’’ شوکت کا بھائی‘‘۔’’ اسلم کی کتاب‘‘۔’’  میری بہن کے بچّے‘‘

ان مثالوں میں کا ، کی، کے حروف اضافت ہیں۔

۸۔ حروف استفہام (question words):

یہ وہ حروف ہیں جو کچھ پوچھنے کے موقع پر بولے جائیں۔ مثال کے طور پر ’’ تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘ اس مثال میں’’ کہاں‘‘ حرف استفہام ہے۔ مشہور حروف استفہام یہ ہیں: کب ۔ کہاں۔ کیوں۔کیسے۔ کیا۔ کون۔ کس کو۔ کس کے۔ کس سے۔ کیسا۔ کیسی۔ کتنا۔ کتنی۔کتنے۔کس لیے۔ وغیرہ

۹۔ حروف تحسین (expressing beauty or praising someone):

یہ حروف کسی کی تعریف کے موقعے پر بولے جاتے ہیں۔  مثال کے طور پر ’’واہ! کیا خوبصورت جھیل ہے‘‘ ۔اس جملے میں ’’واہ!‘‘ حرف تحسین ہے۔ مشہور حروف تحسین یہ ہیں: شاباش۔ خوب۔ واہ واہ۔ آہا۔ بہت خوب۔  بہت اچھے۔

۱۰۔ حروف نفرین (expression of hatred/dirtyness):

یہ وہ حروف ہیں جو کسی نفرت کی علامت کے طور پر بولے جائیں۔  مثلاً ’’ ’’جھوٹوں پر لعنت ہے‘‘۔ اس جملے مین للعنت حرف نفرین ہے۔ عام طور پر استعمال ہونے والے حروف نفرین یہ ہیں: لعنت۔ تُف۔ پھٹکار۔ آخ تھو۔ چھی چھی

 



The opinions and other information contained in OxfordWords blog posts and comments do not necessarily reflect the opinions or positions of Oxford University Press.

Powered by Oxford