15th 20april 20image

اردو رموز و اوقاف


۵- تفصیلیہ

علامت :۔

اس علامت کا استعمال کسی بات کی تفصیل بیان کرنے پر جیسے کہ “حسبِ ذیل” اور “مندرجہ ذیل” کے بعد یا کسی فہرست کو بتانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 

مثالیں:

  •  پاکستان کے صوبے حسبِ ذیل ہیں:۔
    پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان

• لاہور کے مشہور بازار یہ ہیں:۔

انارکلی بازار ، فورٹریس اسٹیڈیم ، لبرٹی مارکیٹ، اچھرہ بازار


٦- سوالیہ یا استفہامیہ:

علامت ؟

یہ علامت استعمال کوئی سوال پوچھنے یا کسی چیز کے بارے میں جاننے کے لئے جملے کے آخر میں استعمال کی جاتی ہے۔

مثالیں:

• خواتین اور زیادہ کام کرنے والے افراد کو جوتوں کے انتخاب میں کس بات کو مدِنظر رکھنا چاہیئے؟

• انسانی فطرت کی وہ کونسی خامیاں ہیں جو ایک انسان کو دوسرے انسان کا دشمن بنا دیتی ہیں؟


۷- فجائیہ اور ندائیہ

علامت ! 

یہ علامت کسی جذبے، مثلاً حیرت، غصہ، نفرت یا خوف کا اظہار کرنے کے لئے جملے کے آخر میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس صورت میں یہ “فجائیہ” کہلاتی ہے اور اگر کسی کو مخاطب کرنا یا پکارنا مطلوب ہو تو یہ"ندائیہ" کہلاتی ہے۔

 مثالیں:

• توبہ! فضائی آلودگی اور وہ بھی دلی کی!

• معزز خواتین و حضرات!


۸- قوسین:

علامت ( )  

یہ علامت عام طور پر ایک جملے کے درمیان اضافی معنی یا تشریح شامل کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔اس کے استعمال سے جملے میں مذید وضاحت شامل کی جاتی ہے جبکہ "قوسین" کے درمیان والی عبارت کے جملے میں نہ ہونے سے کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ اکثر "قوسین" کی مدد سے موضوع کو متبادل لفظ،عبارت، یا جملے سے اس علامت کے اندر مزید سمجھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاں حوالہ درکار ہو وہاں بھی اس علامت کو استعمال کیا جاتا ہے۔

مثالیں:

• ہماری جائیداد کے دستاویزات (جو ہمارے دادا مرحوم ہمارے والد صاحب کی تحویل میں دے گئے تھے) کہیں بازار میں گم ہو گئے۔

رستم پہلوان (مرحوم) کا شمار پاکستان کے مشہور پہلوانوں میں ہوتا ہے۔


۹- عمودی قوسین:

علامت [ ]

جب تحریر میں کوئی حوالہ شامل کیا جائے اور حوالے کو بدلے بغیر اسے مزید سمجھانے کی ضرورت ہو تو اضافی تفصیلات کو عمودی قوسین میں شامل کیا جاتا ہے۔

مثال:

• [جماعت میں پڑھائی جانے والی] کتابیں معلومات جمع کرنے کے طریقے تو بتاتی ہیں لیکن ان کی مدد سے جائزہ لکھنے کی معلومات نہیں فراہم کرتی [جملے میں ترچھے اِقتباس کا حصہ نہیں ہیں]" (لیبوتی اور کاپولا، ۱۹۹۵، صفحہ ۱۵)۔ 


۱۰- لکیر یا خط:

علامت _____ 

یہ علامت بھی "قوسین" کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ علامت جملے کو عبارت سے علیحدہ کرنے، تشریح طلب الفاظ کی مذید وضاحت کرنے، کسی جملے میں اچانک تبدیلی آ جانے کی صورت میں، یا کہی گئی باتوں کو اکٹھا کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

مثالیں:

کوششِ پیہم ___ مسلسل کوشش، لگاتار کوشش، 

علامہ اقبال ___ مفکرِ پاکستان ، شاعرِ مشرق 

استعمال ۔ تفصیل ۔ فہرست ۔ مثال ۔ سوالیہ ۔ علامت ۔ انتخاب ۔ معنی ۔

متبادل ۔ تشریح



<<اوکسفرڈ لِونگ ڈکشنریز سے تحریر، صرف و نحو اور روزمرہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں<<



The opinions and other information contained in OxfordWords blog posts and comments do not necessarily reflect the opinions or positions of Oxford University Press.

Powered by Oxford