Meet 20your 20community 20header

اپنی کمیونٹی سے ملیں: ہمارے لینگویج مینیجر اور لینگویج چیمپیئن

لینگویج مینیجر لِونگ ڈکشنریز منصوبے کی یومیہ سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں، جب کہ لینگویج چیمپیئن ہمارے بیرونی مشیر ہیں۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ ان کا اوکسفرڈ گلوبل لینگویجز منصوبے کے بارے میں کیا خیال ہے، اور ان کے خیال میں لِونگ ڈکشنریز اردو زبان کے تناظر میں کیا کردار ادا کر سکے گی۔ ان کا جواب تھا:

اردو زبان بولنے والے تو کروڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن بدقسمتی سے فارسی، عربی، ترکی، ہندی اور اس طرح کی دوسری زبانوں کے مقابلے پر اردو کے ڈیجیٹل وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انفرادی سطح پر جو تھوڑی بہت کوششیں ہوئی ہیں وہ بھی ادھر ادھر بکھری پڑی ہیں، اور ان تک ایک عام شخص کی رسائی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی کی یلغار کے آگے اردو بڑی تیزی سے اپنا تشخص کھوتی چلی جا رہی ہے۔

اس صورتِ حال میں اوکسفرڈ گلوبل لینگویجز منصوبے میں اردو کی شمولیت نہایت خوش آئند ہے۔ مجھے امید ہے کہ اوکسفرڈ کی چھتری کے نیچے ان سب کوششوں کو ایک جگہ مرکوز کیا جا سکے گا، اور آپ سب کے تعاون سے ایک ایسی کمیونٹی وجود میں آئے گی جہاں اردو سے محبت کرنے والے ایک جگہ مل کر اردو کے وسائل کو مالامال کرنے میں ہاتھ بٹائیں گے۔ اس سے اردو زبان کو نہ صرف ڈیجیٹل دنیا میں بلکہ اس سے باہر بھی تقویت ملے گی۔

Zafar Syed لینگویج مینیجر


  آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک بہت اچھوتاخیال پیش کیا ہےکہ زبانوں کو زمانے کے ساتھ زندہ او رابطے مین رکھنےکے لےُایک ایسا موقعہ فراہم کیا جاےُ جہان وہ زمانے کےبدتےتقاضوں اور نت نئ ضرورتوں کے لے خود کو بے بس اور کسیطرح کمتر نہسمجھیںاردو زبان اپنے مزاج میں اتنی لچک رکھتی ہے کہ وہ تبدیلیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتی اور نےء تصورات کو اپنے لفظوں مین ڈھال لیتی ہے یا دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندرسمولیتی ہے ۔اگر اس کا متبادل یا مترادف مہیا نہیں ہوتا۔ اس سارے عمل مین ہجے اور لہجے کا فرق ہوتا ہے تصور یا معمعنی کا فرق نہیں ہوتا۔اس وقت دنیا ٹیکنالوجی کے ہاتھوں میں ہے۔اردو اس معاملے میں فراخ دل ہے۔ نےء تصورات اور ایجادات کو اپنی زبان میں شاملکر لیتی ہے اور اگر ترجمہ آسانی سے ممکن نہ ہو وہ ان ناموں کو بھی جوں کا توں اختیار کر لیتی ہے۔ایک ایسی لغت کا وجود پانا جو اردو زبان کو زمانے کے مزاج اور زبانوں سے ہم آہنگ کرسکے تواسکی اجنبیت کم ہوگی۔یہ دوسری زبانوں اور اردو کے درمیان گہرا رشتہ قائم کرنے میں مددگارثابت ہو سکتی ہے۔یہاردو زبان کو وسعت اور توانائ بھی دے سکتی ہے اور دوسری زبانوں سے شناسائ بھی بڑی حد تک بہتر ہو سکتی ہے۔

Prof. Arfa Zehra لینگویج چیمپیئن


زبان کی پوشیدہ قوت کو بھرپور انداز میں بروۓ کار لاتے ہوۓ ثقافت، سماج اور معاشرے کی عالمی تناظر میں تشکیلِ جدید کے سلسلے  میں آکسفرڈ لسانیاتِ عالم  کی یہ پہلی کاوش بلاشبہ ایک جرأت مندانہ اقدام ہے۔  یہ میرے نزدیک اقوامِ عالم کے ما بین ثقافتی تنوع ، سماجی گوناگونیت اور معاشرتی تکاثر   کوعصرِ حاضر کی روزافزوں ہندسی تکنیکیات   سے  ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ ردِ عمل ہے۔ ہندسی تکنیکیات آج ایک سوچ سمجھی ناگزیر تکنیکیاتیاتی  دوڑ کی صورت اِختیار کر چکا ہے اور اردو زبان اِس ہندسی تکنیکیات سے خود کوہم آہنگ کرنے میں متاخرین میں شامِل ہوچکی ہے۔  زبان کے مستعد ہتھیار کی بدولت اردو زندہ لغت  جدیدیت کے مقصد کے حصول میں موجودہ اور متوقع اردو برادری دونوں کی مددگار ہوگی۔  میری طالب علمانہ راۓ کے مطابق یہ کاوش نہ صرف اردو زبان کی خود کو ہندسی تکنیکیات سے ہم آہنگ کرلینے میں مدد گار ہوسکتی ہے  بلکہ اردو برادری کی ترویج و ترقی کے ساتھ ساتھ حال و مستقبل کے ہندسی عہد  میں اردو کو ایک زندہ و جاوید زبان بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

 Ashfaque Ahmad SHAH, PhD لینگویج چیمپیئن


ڈاکٹر علی احمد، پی ایچ ڈی، لینگوئج چیمپئن
اردو دنیا کے چھیاسٹھ ملین لوگوں کی مادری زبان ہے اور پاکستان میں اسے قومی زبان کا درجہ حاصل ہے- اردو زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے دنیا بھر میں مختلف ادارے کام کر رہے ہیں- پاکستان میں اردو زبان، اردو لغت، ٹرمنالوجی اور آن لائن اردو ذخائر پر بھی کام جاری ہے- اس سب کے باوجود، اردو میں ابھی بہت کام کی ضرورت ہے اور یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے-
موجودہ دور میں انٹر نیٹ ایک بنیادی ضرورت کا درجہ رکھتا ہے، اس لئے دنیا اب پرنٹ میڈیا سے آن لائن میڈیا پر منتقل ہو رہی ہے- اردو زبان میں اس ضروری امر کو نظر انداز کیا جا رہا تھا- آکسفورڈ گلوبل لینگویجز کے منصوبے کے تحت اردو کو انٹرنیٹ پر فروغ حاصل ہو گا اور زبان کی ترویج ہو گی- یہ منصوبہ زبان کے طالبعلموں کے لئے خصوصی طور پر اور زبان بولنے والوں کے لئے عمومی طور پر مفید ثابت ہو گا- 

Ali Ahmad, PhD لینگویج چیمپیئن


The opinions and other information contained in OxfordWords blog posts and comments do not necessarily reflect the opinions or positions of Oxford University Press.

Powered by Oxford