Healthy food 808x234

کیسی غذا صحت بخش ہوتی ہے

جنوبی ایشیا کے لوگوں کے ذہنوں میں کھانے پینے کی کسی چیز کے عمدہ ہونے کا تعلق اس کے ذائقہ دار ہونے سے وابستہ رہا ہے۔ عام طور پر ہمیں ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ فلاں خاتون بہت اچھا کھانا پکاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کے پکائے ہوئے کھانے کا ذائقہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی بعض جگہیں اپنے پکوانوں کے ذائقے کے باعث اتنی مشہور ہو جاتی ہیں کہ لوگ دور دور سے کھانے کے لیے آتے ہیں اور دوست احباب کے لیے بطور تحفہ لے کر جاتے ہیں۔

اس صورت حال میں بہت کم لوگوں کا دھیان اس طرف جاتا ہے کہ خوراک کا مقصد جسم کی صحت اور توانائی برقرار رکھنا ہے۔ کھانا ہم اس لیے کھاتے ہیں کہ محنت مشقت سے ہونے والی توڑ پھوڑ اور خرچ ہو جانے والی توانائی واپس فراہم کرکے جسم کو قائم دائم رکھ سکیں۔

لیکن جیسے جیسے تعلیم اور شعور کا فروغ ہو رہا ہے، لوگوں کی سمجھ میں خوراک کا اصل مقصد آتا جا رہا ہے۔ وہ اس نکتے سے واقف ہوتے جا رہے ہیں کہ اچھے کھانے میں کیا خوبیاں ہونی چاہییں۔ رفتہ رفتہ ہی سہی، لوگ محسوس کرنے لگے ہیں کہ خوراک کی سب سے اہم خوبی اس کا صحت بخش ہونا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خوش ذائقہ بھی ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ اس کے علاوہ کھانا دیکھنے میں بھی اچھا بھی لگے اور اس کی مہک بھی دلکش ہونی چاہیے تاکہ کھانے والا رغبت سے کھانا کھائے اور صحت مند و توانا رہے۔

صحت بخش خوراک کے ماہر سائنسدان کو ماہر غذائیات یا نیوٹریشنسٹ کہتے ہیں۔ خوراک فراہم یا حاصل کرنے کے عمل کو تغذیہ کہتے ہیں۔ جو کھانا پینا اچھی غذا سے بھر پور ہو اسے غذائیت دار یا پُرغذائیت کہا جائے گا۔  صدیوں کےغوروفکر کے بعد ماہرین غذائیات نے بتایا ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیےانسان کو غیر ضروری پریشانیوں سے نجات، اچھی نیند، ورزش، اچھی اور صاف آب و ہوا کے ساتھ ساتھ صحت بخش خوراک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ اگر آپ کی غذا میں مناسب مقدار میں نشاستہ یا کاربوہائڈریٹس، لحمیات یا پروٹین، نمکیات یا منرلز اور حیاتین یا وٹامنز کے ساتھ وافر مقدار میں پانی اور ریشہ دار خوراک یا فائبرشامل ہوں تو ایسی خوراک کو متوازن غذا کہا جائے گا۔ ایسی غذا آپ کو بیماریوں اور غیر ضروری تھکن اور موٹاپے سے بچاتی ہے۔  

 گندم، چاول اور آلو وغیرہ کا بڑا حصہ نشاستے پر مشتمل ہے۔ گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ وغیرہ سے ہم لحمیات حاصل کرتے ہیں۔نمک، پھلی دار سبزیاں، خشک پھل، دودھ، دہی، پنیر، اور گوشت کے اندر نمکیات کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں میں حیاتین اور ریشہ بڑی مقدار میں ملتا ہے۔ گھی، کھانے کا تیل، خشک پھل، انڈے اور دودھ میں چکنائی موجود ہوتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ آپ کا کھانا پینا آپ کی زندگی کی سرگرمیوں اور عمر کے لحاظ سے مناسب ہو۔ کسان، مزدور، کھلاڑی، بچے اور جسمانی محنت کرنے والوں کو کافی مقدار میں لحمیات اور نشاستے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دفتروں میں بیٹھ کر کام کرنے والے میٹھی اور چکنائی والی چیزیں اورنشاستہ دار خوراک کم مقدار میں لیں اور جسمانی ورزش کو لازمی بنا لیں تاکہ جو خوراک انہوں نے کھائی وہ استعمال ہو سکے ورنہ ان کا وزن غیر ضروری طور پر بڑھتا جائے گا۔

ہم سبھی کو سبزیاں کافی مقدار میں کھانی چاہییں، جب کہ میٹھی چیزوں سے ہر ممکن حد تک بچے رہنا چاہیے۔ دودھ میں  کافی مقدار میں لحمیات، ہوتا ہے اور عمر کے ہر حصے میں دودھ لازمی پیتے رہنا چاہیے۔   

See more from ​ذخیرۂ الفاظ​