Spices800x234

مصالحوں کی باتیں

مصالحے سے مراد نمک، مرچ، ہلدی، پیاز، لہسن، ادرک دھنیا، کالی مرچ، زیرہ وغیرہ جیسی چیزیں ہیں جو سالن پکاتے وقت اس میں ڈالی جاتی ہیں۔ عام طور پر مصالحے ڈالنے کا مقصد ذائقہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اکثر اوقات مصالحے پیس کر سفوف بنا لیتے ہیں اور وہی سالن میں ڈالتے ہیں۔ لیکن بعض پکوانوں میں ثابت مصالحے بھی ڈالے جاتے ہیں جیسے بریانی میں۔ بعض اوقات مصالحے باریک پیسنے کی بجائے موٹے موٹے کوٹ لیے جاتے ہیں جیسے کٹی ہوئی مرچیں۔

جب ہم بازار میں گرم مصالحہ طلب کرتے ہیں تو دکاندار ہمیں سفید زیرہ، لونگ، بڑی الائچی، چھوٹی الائچی، دار چینی، کالی مرچ، جائفل اور جاوتری ایک خاص تناسب میں ملا کر دیتا ہے۔ ہم اسے پیس کر سفوف بنا لیتے ہیں۔ پسا ہوا گرم مصالحہ بھی ملتا ہے۔ گرم مصالحہ تقریباً ہر سالن میں ڈالا جاتا ہے اور اس لحاظ سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مصالحہ پاؤڈر ہے۔

 پاکستان، بھارت اور پڑوسی ملکوں کے لوگ اپنے کھانوں میں ان مصالحوں کے اتنے عادی ہیں کہ ان کے بغیر کسی کھانے کا تصور بھی کرنے پر آمادہ نہ ہوں گے۔ وہ کھانا ہی کیا جو چٹ پٹا اور ذائقے دار نہ ہو! اور یہاں ذائقے دار کھانے سے مراد مصالحوں بھرا کھانا ہوتا ہے۔

پہلے زمانوں میں خواتین کو سِل بٹے کی مدد سے مصالحے رگڑنے یا پیسنے پر اچھی خاصی محنت کرنا پڑتی تھی۔ لیکن آج کل تو پسے پسائے ڈبہ بند مصالحے دستیاب ہیں۔ اس سے محنت اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔

کھانے میں چٹ پٹا پن پیدا کرنے والی بارہ چیزیں مشہور ہیں۔ انہیں بارہ مصالحے کہتے ہیں۔ ان میں پودینہ، زیرہ، بڑی الائچی، کالی مرچ، سونف، نمک، دھنیا، ہلدی، ادرک، اجوائن، کلونجی، اور تیج پات (تیز پات) شامل ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ مرچ مصالحے دار غذائیں صحت کے لیے مضر ہوتی ہیں۔ لیکن دراصل مصالحے نہیں، ان کی زیادتی صحت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مصالحے ہماری صحت کے رکھوالے ہیں اور ان کا معتدل استعمال کرنے والے لوگ طویل عمر پاتے ہیں۔ جنوبی ایشا میں تو مصالحوں کی پیداوار اور ان کے استعمال کی روایت پرانی ہے لیکن اب تو باقی دنیا میں بھی ان کے استعمال کا رواج بڑھ رہا ہے۔

مصالحے کیوں کہ عام طور پر مہنگے ہوتے ہیں لہٰذا بددیانت اور لالچی تاجر ان میں سستی چیزوں کی ملاوٹ کر کے زیادہ منافع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ملاوٹ شدہ مصالحے صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مصالحوں کی خریداری میں احتیاط برتنی چاہیے۔

پاکستان و ہندوستان کے لوگ تو میٹھے پکوانوں اور مشروبات میں بھی مصالحوں کا استعمال کرتے ہیں۔ دودھ میں الائچی، بادام، پستہ اور کستوری ملا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور تو اور مصالحے والی چائے اور کشمیری چائے مشہور ہیں۔ کشمیری چائے مصالحے ڈال کر تیار کی جاتی ہے۔ عام چائے میں بھی لوگ اپنے ذوق کے لحاظ سے سونف، چھوٹی الائچی اور دار چینی وغیرہ شامل کر کے پکاتے ہیں۔

خشخاش، بادام، پستے، کالی مرچ، چھوٹی الائچی اور مغز وغیرہ بھگو اور کونڈی میں پیس کر اسے دودھ میں ملاتے ہیں۔ یہ سردائی کہلاتی ہے اور گرمیوں کا خاص مشروب ہے۔ عید تہوار پر حلوے، کھیر، شیر خورمے پر اور عاشورے میں شربت پر کترے ہوئے بادام اور پستے چھڑکتے ہیں۔ یہ تبرک اور تحفے کے طور پر محلے پڑوس میں بھجواتے ہیں اور مفت تقسیم کرتے ہیں۔

محرم میں مزیدار اور مصالحوں بھرا حلیم پکانے اور تقسیم کرنے کی روایت ہے۔ بریانی میں اگر مصالحے نہ ہوں تو لوگ پسند نہیں کریں گے۔

See more from ​ذخیرۂ الفاظ​