Medicine words808x234

طبی زبان

خوش و خرم رہنے کے لیے صحت مند جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ صحت قائم رکھنے کے شعبے  میں مہارت حاصل کرتے ہیں وہ ڈاکٹر یا طبیب کہلاتے ہیں۔ طب کے شعبے سے وابستہ یہ لوگ سیکھتے ہیں کہ انسانی جسم اور اس کے مختلف اعضا کیا ہیں اور کیا کیا کام کرتے ہیں، ان کا  آپس میں تعلق کیا ہے۔ انسانی جسم میں کیا کیا نظام کام کرتے ہیں، جیسے نظام دورانِ خون، نظامِ تنفس اور نظامِ انہضام۔ کس طرح مختلف اعضا مل کر ایسے پیچیدہ عمل سرانجام دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ہوں یا طبیب و حکیم، اس پیشے میں آنے کے لیے سخت تعلیمی اور تربیتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی عملی تجربہ حاصل کرنے کے بعد ہی یہ ماہر ہو پاتے ہیں۔

طب کی دنیا کی اپنی ہی زبان ہے۔ طویل تعلیم اور تجربے کے دوران یہ اس زبان کے بھی ماہر ہوتے جاتے ہیں۔ اس زبان کی اپنی ہی اصطلاحات ہیں اور ڈاکٹر آپس کی بات چیت میں اس زبان کے استعمال کے ذریعے اپنی بات ٹھیک ٹھیک طریقے سے ایک دوسرے کو سمجھا دیتے ہیں۔ یہی زبان طبی رپورٹوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس زبان کے استعمال سے کم وقت میں اور بغیر ابہام کے بڑی سے بڑی بات بہ آسانی کہی سنی جاتی ہے۔

اسی طرح طب کے شعبے سے وابستہ ماہرین یہ بھی جانتے ہیں کہ انسانی جسم کے نام سے جانی جانے والی اس مشین میں خرابیاں کیسے واقع ہو جاتی ہیں اور انھیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے تاکہ جسم واپس صحت مند ہو جائے اور اچھے طریقے سے کام کرنے لگے۔ ایسے میں متاثرہ فرد کو مریض کہتے ہیں۔ مرض میں مبتلا شخص اپنے طبیب کو بتاتا ہے کہ اسے کیا محسوس ہورہا ہے۔ طبیب ان کیفیات کو علاماتِ مرض کہتے ہیں اور ان کی مدد سے طے کرتے ہیں کہ اصل میں مرض کیا ہے جس کا علاج کیا جائے۔

کبھی ڈاکٹروں کو لیبارٹری کی مدد سے تشخیص کرنی پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرینِ تشخیص کبھی خون یا پیشاب کے معائنے کے ذریعے رپورٹ مرتب کرتے ہیں اور کبھی ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کرتے ہیں۔

علاج کرتے وقت ڈاکٹروں کو کبھی دواؤں کا اور کبھی سرجری یعنی جراحت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کبھی وہ غذاؤں میں تبدیلی کے ذریعے اور کبھی ورزش کے ذریعے مریض کی صحت میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلا کبھی وہ خون پتلا کرنے کی دوائیں تجویز کرتے ہیں تاکہ وہ غیرضروری طور پر گاڑھا نہ ہو اور جسم کی باریک رگوں میں گردش کرتا رہ سکے اور کبھی ایسی خوراک تجویز کرتے ہیں جو جسم میں مخصوص غذا کی کمی کو پورا کر دے جس کی کمی کے باعث جسم بیمار پڑ رہا ہے۔ کبھی انھیں حادثات کے باعث ٹوٹی ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے پلستر چڑھانا پڑتا ہے تو کھبی دل کی بند شریانوں کو کھلا رکھنے کے لیے وہاں سٹینٹ جمانے پڑتے ہیں جہاں سے کسی باعث خون گزرنے میں مشکلات ہیں۔

کبھی آپ کا خاندانی ڈاکٹر آپ کو اسپتال جا کر کسی ماہر امراضِ مخصوص سے مشورے کا کہتا ہے جیسے ماہر امراض قلب یا ماہر امراض چشم، ماہر امراض اطفال۔

اسپتال میں جانے کی صورت میں مرض معمولی ہو تو شعبہ بیرونی مریضاں سے دوا لے کر گھر آ جاتے ہیں مگر اگر مرض شدید ہو تو اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے اور یہ ڈاکٹر ہی طے کرتے ہیں کہ چھٹی کب ہو گی۔ حادثات کے مریض ایمرجنسی کے شعبے میں لائے جاتے ہیں۔

مرض کبھی وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں جیسے نزلہ بخار یا اسہال اور کبھی دائمی جیسے بلند فشارِخون اور شوگر۔ جو بھی صورت ہو طبیب کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنی صحت کی حفاظت کرنی چاہیے۔

See more from ​ذخیرۂ الفاظ​