کام کی زیادتی سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی اور کارآمد باتیں

آج کی دنیا کارکنان اور ملازمین سے تیزرفتاری سے زیادہ کام کا تقاضہ کرتی ہے۔ جو افراد یہ مطالبہ پورا نہیں کر سکتے، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دوسرے انھیں سست مزاج قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ کارکن ایک احساس ناکامی کی وجہ سے ناخوش ہوتے ہیں۔ 

اس مسئلے کو مناسب منصوبہ بندی اور کچھ ترکیبوں کے ذریعے صد فی صد نہیں تو بھی بہت زیادہ حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔

کاموں کی پلاننگ کریں اور ترجیحات طے کریں۔ جو کام آپ کر رہے ہیں ان کی فہرست بنائیں۔ ان میں سے جو کام آپ کی براہ راست ذمہ داری نہیں ہیں انھیں الگ کر لیں۔ بہتر ہے یہ کام وہی نمٹائے جس کی یہ ذمہ داری ہیں اور آپ اپنی ذمہ داری پر توجہ مرکوز کر سکیں۔

جو کام آپ کی ذمہ داری ہیں، ان میں جس کی ضرورت پہلے ہے اسے پہلے مکمل کریں۔ باقی کاموں پر بھی توجہ رہے اور ان پر کام بھی آگے بڑھتا رہے۔

اگر آپ کو کوئی بڑا کام دے دیا گیا ہے اور اس کی جلدی بھی ہے تو معمول کے دوسرے کاموں کی فہرست بنائیں جن کی جلدی نہیں ہے یا جو آپ اپنے لائن مینیجر کے توسط سے اپنے ساتھی کارکنان کو دے سکتے ہیں۔ اپنے باس سے مل کر بہت محبت سے بتائیے کہ اگر آپ پہلے سے موجود اپنے کاموں کو کرنے پر بھی لگے رہے تو اہم ترین پروجیکٹ پر اتنی توجہ نہیں دے سکیں گے جتنی اسے بروقت مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے اگر وہ کام اس وقت تک کسی اور کو دے دیے جائیں جب تک آپ اس بڑے پروجیکٹ پر لگے ہیں۔

اگر آپ کا پروجیکٹ اہم ہے اور آپ کو اس کی تکمیل کے لیے مزید افراد کی مدد کی ضرورت ہے تو اپنے باس کو بتا کر اپنے ساتھیوں سے یہ مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

توجہ خراب کرنے والی چیزوں کو کنٹرول کریں۔ دوسروں کو بھی بتا دیں کہ پروجیکٹ کتنا اہم اور توجہ طلب ہے لہٰذا ان سے درخواست کریں کہ وہ غیر ضروری طور پر ڈسٹرب کرنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ خود پر بھی ذاتی نظم و ضبط نافذ کریں۔ چیزوں کو ان کی طےشدہ جگہوں پر رکھے جانے کی پالیسی اپنائیں۔ اس سے ضرورت کے وقت ان کو تلاش کرنے پر وقت ضائع نہیں ہو گا اور ذہن بھی پرسکون رہ سکے گا۔ 

کام کو کبھی خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ کبھی یہ نہ سوچیں کہ بہت کام باقی ہے کیوں کہ اس سے ہمت پست ہوتی ہے۔ بلکہ کام کو مختلف چھوٹے چھوٹے مراحل میں تقسیم کر دیں اور ایک ایک کر کے مکمل کرتے جائیں۔ جو کام نمٹ گیا اس سے احساسِ تکمیل حاصل کریں۔ اس سے مزید کام کرنے کی ہمت پیدا ہو گی۔ اسے استعمال کرتے ہوئے اگلے مرحلے پر توجہ مرکوز کر دیں اور اسے مکمل کر لیں۔ اس طرح حوصلہ بنا رہے گا اور کام نمٹتا جائے گا۔ 

کام کو ممکنہ عجلت کے ساتھ نمٹانے کی پالیسی اپنائیں۔ پرانی کہاوت ہے کہ آج کا کام کل پر مت ٹالو۔ جو کام ابھی نمٹایا جا سکتا ہے اسے ابھی کر ڈالیں اور کبھی مت ٹالیں۔

زیادہ سے زیادہ کام نمٹانا اچھا ہے لیکن ہلکان ہونا اچھا نہیں۔ خود پر بے حساب بوجھ ڈال لینے سے جسمانی اور ذہنی ٹوٹ پھوٹ ہو سکتی ہے۔ لہٰذا کام کی منصوبہ بندی اس طرح کرنی چاہیے کہ بہت سا کام نمٹا لینے کے باوجود مزید کام کرنے کا جذبہ اور ہمت موجود رہے۔ اس سلسلے میں بہت ضروری ہے کہ کام کے طویل دورانیے کے بعد کچھ وقت لازمی طور پر ’آرام‘ کیا جائے۔ حالات کی مناسبت سے یہ آرام کوئی دوسرا دلچسپ کام کر کے، لیٹ کر یا محض چند منٹ آنکھیں موند کر اور گہری سانسیں لے کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ جو کچھ بھی ہو، مختصر ہو اور اس سے آپ کام کے اگلے طویل دورانیے کے لیے تازہ دم ہو جائیں۔