Autobiog

آپ بیتی کیسے لکھی جائے؟


 آپ بیتی کیا ہے؟

اپنے حالات زندگی یا اپنے اوپر گزرنے والے واقعات کو خود تحریر کرنا یعنی اپنی زبانی بیان کرنا آپ بیتی کہلاتا ہے۔ آپ بیتی کسی انسان کی اپنی کہانی کا دوسرا نام ہے۔ عام طور پر اردو زبان کے نامور مصنف اور ادیب اپنی آپ بیتیاں قلم بند کرتے رہے ہیں۔ مثلاً جوش ملیح آبادی کی آپ بیتی ’’یادوں کی بارات‘‘ ، احسان دانش کی ’’جہانِ دانش‘‘ اور مرزا ادیب کی ’’ مٹی کا دیا‘‘ مشہور آپ بیتیاں ہیں۔

ادب کی دنیا میں عام طور پر لوگ اپنی آپ بیتیاں لکھتے ہیں۔ یعنی اپنے حالات ذندگی کو کسی کہانی کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا مصنف اور شعرا نے کیا۔

آپ بیتی لکھنے کا دوسرا عام فہم اور زیادہ استعمال کیا جانے والا طریقہ وہ ہے جو ہمارے یہاں تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔  اس کی نوعیت  ادبی دنیا کی آپ بیتی سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔اسے خیالی یا فرضی آپ بیتی کہہ سکتے ہیں۔اس میں حیوانات ، نباتات اور جمادات وغیرہ کی داستانِ حیات اُن کی اپنی زبانی پیش کرنا ہوتی ہے۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ گویا ان بے جان چیزوں کو بولنے کی طاقت مل گئی ہے۔ اور وہ اپنی زندگی کے حالات اور واقعات کو بذاتِ خود بیان کر رہے ہیں۔ ایسی آپ بیتی کو لکھتے ہوئے ہمیں خود کو اُس شخص یا  چیز  کی جگہ  فرض کرنا ہوتا ہے جس کی آپ بیتی لکھنا مقصود  ہو۔ اور پھر اس شخص یا چیز کے وجود میں آنے لے کر جو واقعات اس کے ساتھ پیش آئے ہوں اُنھیں اپنی زبانی بیان کرنا ہوتا ہے۔ یوں اپنے تخیّل سے کام لے کر ہم  بہت سے ایسے واقعات قلم بند کر سکتے ہیں جو اس چیز کو قدرتی طور پر پیش آتے ہوں  یا آ سکتے ہوں۔ ایک عمدہ آپ بیتی کا انحصار لکھنے والے  کے زورِ بیان، قوت مشاہدہ اور معلومات پر ہوتا ہے۔

ایک معیاری اور دلچسپ آپ بیتی تحریر کرنے کے لیے پہلی شرط قوّت مشاہدہ  اور معلومات کا ہونا ہے۔ مختلف چیزوں  کی اصلیت اور حقیقت پر غور کرنا ضروری ہے۔  جانوروں اور پرندوں  وغیرہ  کا کھانے پینے کے انداز، اُٹھنے بیٹھنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات ہونی چاہیئں۔

دوسری ضروری بات یہ ہے کہ قوت تخیّل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ ایک قدرتی عطیہ ہے جس کی جتنی تربیت کریں گے اتنا بڑھے گی۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ لکھاری کے پاس مناسب ذخیرہ الفاظ موجود ہو۔ اور لکھاری اس  ذخیرہ الفاظ کے استعمال  پر بھر پور قادر ہو۔ بعض اوقات  لوگوں کے پاس  بہت سے مشاہدات اور تجربات ہوتے ہیں لیکن   بیان کرنے کے لیے وہ مناسب  الفاظ، یا  دوسرے لفظوں میں زور بیان نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے تحریر اثر انگیز اور دلچسپ نہیں بن پاتی۔ زور بیان تحریر کی جان ہوتی ہے جو باقی چھوٹی موٹی  خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

آپ بیتی لکھنے کے لیے ضروری ہدایات:

۱۔ آپ بیتی کا صیغہ واحد متکلم یعنی   ’میں ‘ ہونا ضروری ہے۔ اپنے آپ کو اس کی جگہ فرض کر کے لکھا جائے جس کی آپ بیتی لکھی جا رہی ہو۔

۲۔ تحریر کا مناسب خاکہ تیار کر لینا چاہیئے تاکہ لکھتے وقت تحریر بے ربط نہ ہو بلکہ منظم رہے۔

۳۔ آپ بیتی کی طوالت مناسب ہونی چاہیئے۔ نہ بہت  کم ہو اور نہ ہی بہت زیادہ  کہ پڑھنے والے کی دلچسپی ختم ہو جائے۔

۴۔ آپ بیتی میں حقیت بیانی کا رنگ ہونا چاہیئے۔ سادہ اور سلیس زبان کا استعمال کرنا چاہیئے۔مصنوعی یا پر تکلف زبان  کا استعمال نہیں ہونا چاہیئے۔

۵۔ آپ بیتی کو شگفتہ اور دلچسپ ہونا چاہیئے۔ اس مقصد کے لیے چھوٹے موٹے اشعار اور لطیفے وغیرہ شامل کیے جا سکتے ہیں۔

 


OxfordWords بلاگ اور تبصروں میں موجود خیالات اور دوسری معلومات لازمی طور پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے خیالات یا موقف کی ترجمانی نہیں کرتے۔

اوکسفرڈ کی زیرِ نگرانی