Essay 20writing

مضمون کیسے لکھا جائے


مضمون کیسے لکھا جائے

کسی موضوع پر معلومات یا خیالات نثر میں تحریر کرنے کومضمون لکھنا کہتے ہیں۔ اکثر اوقات مضمون لکھنے سے پہلے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس خاص موضوع پر اس مضمون کے قارئین کو وہ معلومات حاصل نہیں ہیں جو آپ کے پاس ہیں اور یہ کارآمد معلومات آپ ان تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ یا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی خاص معاملے میں لوگ اس طرح نہیں سوچتے جس طرح کہ انہیں سوچنا چاہیے اور آپ اس معاملے پر دلائل کی مدد سےایک بہتر اندازِفکر پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

اوپر درج کی گئی دونوں صورتوں میں موضوع آپ کے پاس موجود ہے۔ اب آپ کواپنی معلومات یا خیالات و دلائل کو منظم کرنا ہے تاکہ انہیں ایک ایک کرکے ایسی ترتیب سے لکھ سکیں کہ پڑھنے والے کے لیے زیادہ سے زیادہ آسان فہم اور کارآمد ہو جائیں اور آپ کے دلائل اس کو زیادہ سے زیادہ متاثر کریں۔

اس مقصد کے لیے آپ یہ طریقہ اپنا سکتے ہیں کہ اپنے موضوع کو ایک صفحے کے بیچوں بیچ لکھ کر اس پر دائرہ کھینچ دیجیے۔ اس موضوع پر جو معلومات یا خیالات آپ قاری تک پہنچانا چاہتے ہیں انہیں اس دائرے کے اردگرد چھوٹے چھوٹے دائروں میں نوٹ کر لیجیے۔ سوچیے کہ ارد گرد نوٹ کیے ہوئے خیالات کو کس ترتیب سے پیش کرنا مناسب ہو گا کہ مضمون لکھنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ حاصل ہو سکے۔ ان نکات پر اسی ترتیب سے نمبر ڈال دیجیے۔

صفحے کے اوپر کی جانب لکھیے 'تعارف' اور اس پر بھی دائرہ بنا دیجیے۔ اسی طرح صفحے کے بالکل نیچے 'اختتام' لکھ کر اس پر بھی دائرہ بنا دیجیے۔

لیجیے آپ کے مضمون کا ڈھانچا تیار ہو چکا ہے۔ اس پر ایک بھرپور نظر ڈالیے کہ کیا کسی کمی بیشی کی ضرورت ہے۔ کوئی کسر رہ تو نہیں گئی؟ اگر کچھ نکات شامل کرنے یا نکالنے یا ترتیب میں کسی تبدیلی سے مضمون بہتر ہو جائے گا تو کر لیجیے۔

لیجیے اب لکھنے کا مرحلہ آ گیا ہے۔ کاغذ لیجیے، قلم اٹھائیے اور خدا کا نام لے کر شروع ہو جائیے۔ سب سے پہلے ایک پیراگراف میں مضمون کا تعارف ہو گا کہ یہ کس بارے میں ہے اور اس کے لکھنے سے آپ کیا بتانا یا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے بعد آپ معلومات یا خیالات اس ترتیب سے لکھتے جائیں جو نمبر آپ نے موضوع کے گرد چھوٹے دائروں میں نوٹس کو دے رکھے ہیں۔ ایک خیال کو بیان کرنے کے لیے ایک پیرا گراف استعمال کیجیے۔ پھر اگلا نکتہ لیں اور نئے پیراگراف میں اسے بیان کریں۔ اسی طرح ایک ایک پیراگراف میں ایک خیال لکھتے لکھتے جائیں اور تمام نکات ختم کر دیں۔  سب سے آخر میں مضمون کا اختتام ہو گا۔ یعنی ایک پیراگراف میں آپ لکھیں گے کہ جو باتیں آپ نے لکھیں ان سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

لیجئے، آپ کا لکھنے کا عمل پورا ہو گیا اور مضمون تیار ہو گیا۔ لیکن ایک اہم کام ابھی باقی ہے۔ اور وہ یہ کہ اپنی تحریر کو مکمل کر لینے کے بعد ہمیشہ کم سے کم ایک دفعہ پڑھ لینا چاہیے تاکہ اگر کوئی غلطیاں رہ گئی ہیں توتحریر آگے بڑھانے سے پہلےانہیں ٹھیک کرلیا جا ئے اور اگر کوئی بہتری ہو سکتی ہے تو کر لی جائے۔ اچھے مصنف اپنی تحریر پربہت محنت کرتے ہیں اور اکثر ہر مضمون پر ایک سے زیادہ مرتبہ نظرثانی کرتے ہیں۔

یہ طریقہ کار  ہر طرح اورہر سطح کی مضمون نویسی کے لیے کارآمد ہے لیکن طلبہ و طالبات کو تو خاص طور پر اسی طریقے کو اپنانا چاہیے حتیٰ کہ وہ خوب ماہر مضمون نویس بن جائیں۔ 

 

 

 

 

 


OxfordWords بلاگ اور تبصروں میں موجود خیالات اور دوسری معلومات لازمی طور پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے خیالات یا موقف کی ترجمانی نہیں کرتے۔

اوکسفرڈ کی زیرِ نگرانی