15th 20april 20image

اردو لکھنے ميں رموز و اوقاف کا کردار


اچھی اور معنی خيز اردولکھنے ميں رموزواوقاف کی اہميت سے انکار نہيں کيا جاسکتا، ليکن ہمارے معاشرے ميں اس کی اہميت کو سنجيدگی سے نہيں ليا جاتا- جيسے اردو زبان بولتے ہوۓہم بوقت ضرورت وقفہ ديتے ہيں يا بسا اوقات اپنی آواز کا سر تبديل کرتے ہيں، بلکل اسی طرح  لکھے ہوۓ لفظوں کو معنی خيز بنانا رموزواوقاف ہی کا کمال ہے-


 يہاں يہ بات قابل غور ہے کہ اردولکھنے ميں رموزواوقاف کی معمولی سی غلطی سے پورے جملے کے وہ معنی بھی اخذ کيے جاسکتے ہيں جو لکھنے والے کا ارادہ يا مقصد ہی نہيں تھا- اس ليے  راوی کے ليے يہ ضروری ہے کہ وہ اردو لکھتے وقت احتياط سے کام لے۔


رموزواوقاف کے صحيع استعمال کے ليے ان کو سمجھنا بھت ضروری ہے- اردو لکھنے، پڑھنے اور بولنے والوں کی سہولت کے ليے کچھ رموزواوقاف درج ذيل ہيں، مثال کے طور پر:  ختمہ -، سکتہ ، ، وقفہ ؛ ، رابطہ : ، نداۂيہ ! ، سواليہ ؟ ، واوين " " ، قوسين () ، عمودی قوسين [ ] ، آڑھا خط / ، تين/پانچ نقطہ ۔۔۔۔۔۔ ، علامت تجزيہ + ، علامت تسويہ = ، متبادل ~ ، وغيرہ وغيرہ جن ميں سے بعض کو مزيد تفصيل اور مثالوں کے ساتھ نيچے بيان کيا گيا ہے:


ختمہ -

ہر عبارت کے اختتام يا عبارت مکمل ہوجانے پر يہ نشان لازمی ہے- مثال کے طور پر: کرکٹ ايک کھيل ہے-


سکتہ ،

 يہ علامت دو يا دو سے زيادہ صفت، نام، اور  کلمات کے درميان ٹہراؤ کے ليے استعمال کی جاتی ہے-  مثال کے طور پر: عابد، حامد، ارم، اور کاشف چاروں بہن بھاۂی ہيں، اور ايک ہی گھر ميں رہتے ہيں-


وقفہ ؛ 

 جب دو عبارتوں يا جملوں ميں سکتہ سے زيادہ  ٹھراؤ يا باہمی رابطہ ہو، تو يہ نشان استعمال کيا جاتا ہے-  مثال کے طور پر: غلطی بندے کی؛ بخششں رب کی- 


 نداۂيہ !

يہ نشان عموما‏‏‏‏ جملے کے اختتام ميں استعمال کيا جاتا ہے- اس کو استعمال کرنے کا مقصد حيرانگی يا اظہار جزبہ ہوتا ہے- مثال کے طور پر: اے انسانوں! ايک دوسرے سے نفرت نہ کرو-


سواليہ ؟

يہ علامت يا نشان سواليہ جملے يا عبارت کے آخر ميں استعمال کيا جاتا ہے- مثال کے طور پر: آپ کی عمر کتنی ہے؟


مندرجہ بالا مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ جب آپ اردو لکھيں، پڑھيں، اور بوليں گے تو دوسرے ہم زبان آپ کی بات/باتوں کونہ صرف بہتر طور سے سمجھيں گے بلکہ صحيع مطلب بھی اخذ کريں گے-

OxfordWords بلاگ اور تبصروں میں موجود خیالات اور دوسری معلومات لازمی طور پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے خیالات یا موقف کی ترجمانی نہیں کرتے۔

اوکسفرڈ کی زیرِ نگرانی