Humaira ashraf header1

اس ماہ کی منتخب رکن

اس مہینے اردو ڈکشنری میں بہت سے نئے الفاظ شامل کیے گئے ہیں، لیکن اس ماہ کی منتخب رکن حمیرا اشرف نے سب سے زیادہ الفاظ شامل کر کے لغت میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔

ذیل میں ان سے بات چیت پیش کی جا رہی ہے۔

آپ کو اردو لِونگ ڈکشنری کا حصہ بننے کے لیے کس چیز نے مائل کیا؟

لفظ۔ لفظوں سے میری محبت، اور نئے نئے لفظ جاننے ،سیکھنے اور سمجھنے کی میری خواہش جو اب ایک جنون کی سی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ یہی محبت مجھے ہر اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں مجھے لفظ ملتے ہیں۔ بالخصوص اوکسفرڈ  اردولونگ ڈکشنری ہی کیوں؟ اس کی وجہ تو میرا اوکسفرد اور اس لغت سے رشتہ ہے۔ اوکسفرڈ لونگ ڈکشنری کا ماخذ اوکسفرڈ اردو انگریزی لغت ہے جو اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ اور مجھے اس بنیادی لغت کی مدیر اور معاون مدیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ لغت دس سال کے عرصے میں تیار کی گئی اور آخری سات برسوں میں اس لغت کی تالیف، ادارت اور پروف خوانی کے سبھی مراحل میرے ہاتھوں سے گزر کر یہ لغت  زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔ تو جب یہ لغت اوکسفرڈ لونگ ڈکشنریز کا حصہ بنی تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ میں اپنی محبت اور اس محور محبت سے دور رہ پاتی۔

آپ کے خیال میں اس سے اردو بولنے والوں کو کس طرح فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

زبانوں کی تاریخ کا مشاہدہ کریں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ اب تک وہی زبانیں اپنے وجود کو برقرار رکھ سکیں جنھوں نے بدلتے حالات، رویوں ، اظہاریوں اور اختراعات سے منھ موڑنے کی بجائے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں اپنا حصہ بنا لیا۔ اور یہ عمل اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے جب زبان میں ہی لچک نہ ہو بلکہ اس کے بولنے والوں میں بھی وسعت نظر ہوجو وہ ہر جائز تبدیلی کو خوش آمدید کہیں  ۔ زبان کی بقا  اس امر میں مضمر ہے کہ  زیادہ سے زیادہ علمی وسائل، ٹیکنالوجی اور عالمی  ادبی و ثقافتی اثاثے اپنی زبان میں منتقل کیے جاسکیں۔یہی زبان سے ہماری محبت کا تقاضا اور بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ ایجادات اور روزافزوں بڑھتے ذخائرعلمی کی زبان انگریزی ہی ہے لہذا انگریزی کے علمی ماخذات کو اپنی زبان میں نہ صرف منتقل کرنے بلکہ ان کی درست فہم کے لیے بھی ہمارے لیے دولسانی مطالعہ ضروری ہوجاتا ہے۔ اب اسے بدقسمتی ہی کہہ لیجیے کہ ہمارے پاس ایسے علمی وسائل انتہائی کم ہیں اور وہ جو مستند، جامع اور معیاری قرار دیے جاسکیں تو وہ تو نایاب ہی ہیں۔ لغات کےاس قحط الرجال میں اوکسفرڈ اردو لونگ ڈکشنری ایک ایسی نعمت ہے جس سے ہم گھر بیٹھے ، دوران سفر، دوران گفتگو ، دوران مطالعہ نیز آرام کے لمحات میں بھی باسہولت طریقے سے کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فونز وغیرہ کے ذریعے مستفید ہوسکتے ہیں۔ جہاں کسی لفظ کے معنی واضح نہ ہوں یا ان کا انگریزی متبادل درکار ہولائبریری کی جانب دوڑنے، موٹی ضخیم کتابیں اٹھانے کی بجائےچند سیکنڈز میں ہی مطلوبہ لفظ تک رسائی حاصل ہوجائے، واہ کیا بات ہے!

کیا آپ کا کوئی پسندیدہ اردو لفظ یا کہاوت ہے؟ کیوں؟

کوئی پسندیدہ اردو لفظ یا کہاوت؟ جناب ہم تو جسے سنتے ہیں جھوم اٹھتے ہیں۔ کیا کہنے ہماری زبان کے! اردو ایک زرخیز زبان ہے جو اپنی مٹھاس اور لہجے کی نغمگی سے سننے والے کا دل موہ لیتی ہے۔ہر لفظ اپنی جگہ جیسے بلبل ہزار داستان ہے، معنی در معنی، ایک شے اور کئی نام اور ہر  نام کے کئی مترادفات، غرضیکہ لفظ کا سفر در سفر چلا جارہا ہے اور ہم عش عش کرتے رہ جاتے ہیں:جیسے، کڑی ہے تو زنجیر کا چھوٹا حلقہ بھی ہے، سلسلہ بھی کہلائے گی تو شہتیر کی صورت چھت کی کڑی بن جائے گی، شدت کا اظہار ہو تو کڑی پریشانی، غصے بھری نظر، مضبوط مستحکم کڑی کمان، کڑی سزا۔ اشتقاق در اشتقاق: جیسے، مصدر کھیلنا سے فعل کی حالتیں لیجیے تو  کھلانا، کھلوانا، کھیلا، کھیلی، کھیلے، کھیلتا، کھیلتی، کھیلتے،کھیلنی، کھیلنے  اسم بنا تو کھیل، کھلونا،کھلونے، کھلار، کھلوڑ، کھلّو، کھلاڑی، کھلاڑن، کھلواڑ، کھیلن،  کھلنڈرا، لفظ خود میں اپنی ترتیب کے ساتھ بدل رہے ہیں تو سابقے لاحقے لگ کر الگ بہار دکھارہے ہیں، جیسے کھیلن ہار، اٹکھیل، صفت کے ساتھ جڑ کر موصوف بنے بیٹھے ہیں ، جیسے کھائی کھیلی، تو اسم کے ساتھ مل کر کیفیت ، جذبے سوچ کا اظہار بن جاتے ہیں ، جیسے کھیل کود، کھیل تماشا، ہنسی کھیل۔ آوازوں کے ناموں کی طرف آئیں تو ہر آواز ایسے اپنی کیفیات کی عکاس، دھڑ ، دھم،دھوں، دھس، سرسر، کھڑکھڑ، گھڑگھڑ، پڑپڑ، سڑپڑ۔ ہفت زبانی صفت تو اس کا طرہ امتیاز ہے، لفظ ایک ہے لیکن ماخذ زبانیں کئی ایک، عربی معنی کچھ ہیں تو فارسی کچھ اور ، سنسکرت میں یہ کچھ ہے تو پراکرت میں کچھ اور، تو مقامی بولیوں میں کچھ اور، اور اب تو انگریزی معنی بھی اپنی خوب خوب بہاریں دکھاتے ہیں۔ لفظ "بار" ہی کو لیں تو فارسی سے یہ وزن کے معنوں میں  ہے، سنسکرت سے باری، دانو، دروازہ؛ ہندی سے بال، بچہ؛ عربی بنیادوں سے باری (خدا کے صفاتی نام کی تخفیف)؛ مقامی بولی میں بارانی زمین اور انگریزی سے اب سلاخ، اور وکلا کی انجمن۔

ابھی کل جون ایلیا کا ایک مصرعہ پڑھا :

زخم دل کو بناؤ زخمہء ساز 

کیا حسن ہے ہماری زبان کا، دل کا زخم  وہ تکلیف یا درد جو حالات، واقعات اور انسانوں نیز کسی خاص انسان کی دین ہوسکتا ہے۔ تکلیف میں جو آہیں ،کراہیں، نالے نکلتے ہیں وہ شکوہ و شیون بھی ہوسکتے ہیں اور کبھی بدکلامی بدزبانی بھی، لیکن جب زخم کی مناسبت سے زخمہ لکھتے ہیں اور زخمہء ساز بناتے ہیں تو یہ جو تکلیف ہے یہ زخمہ (ستار وغیرہ بجانے کا مثلث نما آہنی چھلا، مضراب) کی صورت جب سر بکھیرتی ہے تو ایک مثبت احساس کی تعمیر کرتی ہے۔ شعر کے معنی کا حسن اپنی جگہ لیکن زخم اور زخمہ کا رشتہ کیسا حسین ہے۔




ایسی کون سی چیزیں ہیں جنھیں آپ چاہتی ہیں کہ اردو سائٹ/فورم پر شامل کیا جائے؟

اردو سائیٹ اور فورم پر جو پہلی چیز میں چاہتی ہوں وہ اس کا زیادہ سے زیادہ انٹرایکٹو ہونا ہے۔ اس خواہش کا حصول ایسا کچھ آسان نہیں۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ دیگر غیر ادبی، بےادبی پلیٹ فارمز پر تو ہم بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں لیکن یہاں ہم کچھ نہیں کہہ پاتے۔میری رائے میں اس کی وجہ شاید یہ ہےکہ جب بھی کوئی علمی ادبی پلیٹ فارم سامنے آئے ہم اس سے گریزاں ہوتے ہیں کہ ہماری کم علمی سب کے سامنے آجائے گی۔ لغت کا میدان تو ویسے ہی ایک مشکل علاقہ سمجھا جاتا ہے اور اچھے اچھوں کے یہاں قدم رکھتے پرجلتے ہیں۔  لہذا ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ اپنے اردو بولنے والے ساتھیوں کو اعتماد دیں، انھیں بتانا ہوگا کہ " بولیں ضرور، آپ کی رائے اہم ہے" ہم سب ایک جیسے ہیں، سب سیکھنے آئے ہیں اور سیکھنے کے اس گروہی عمل میں ہم ایک دوسرے کو کچھ نہ کچھ سکھا بھی رہے ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو زبان کے حوالے سے درپیش سوال کرنے کا موقع دیں۔ انھیں احساس دیں کہ آپ کا سوال اہم ہے۔یقیناً شعبہ علم میں  سوال ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے پاس یہ آجائے اسے حصول علم سے کوئی نہیں روک سکتا۔  ایک فیچر "آپ کا سوال" کے نام سے شامل کیا جاسکتا ہے۔

لفظ شامل کیجیے اردو لونگ ڈکشنری کا ایک اہم فیچر ہے، لیکن اس ضمن میں استناد کا پہلو خصوصی توجہ اور ضروری اقدامات کا متقاضی ہے۔ دنیا بھر میں اوکسفرڈ لغات اپنےمعیار کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ یہ ہمارا ہی نہیں سب ہی کا ماننا ہے ۔ تو یہی مستند حیثیت میں یہاں اردو لونگ دکشنری میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں۔ کوئی بھی لفظ جو شامل کیا جاتا ہے اسے لازمی طور پر ری چیک کیا جائے۔ ری چیک کرنے کے لیے کچھ پیمانے ترتیب دینے ہوں گے، جیسے:

لفظ کا معیاری املا

درست معنی کی شناخت

درست قواعدی و صرفی حیثیت

مستند لسانی ماخذ

لغت میں لفظ کی شمولیت یقینا مستحسن ہے لیکن ہمیں مقدار کے ساتھ ساتھ معیار پر بھی خصوصی توجہ دینی ہے اس کے لیے ہم اپنے لینگویج چیمپینز میں سے بھی سینئر افراد جن کی لغت نگاری پر گہری نظر اور تجربہ ہو، ایسے چند (خواہ دو سے تین ہی ہوں) افراد پر مشتمل ایسا ادارتی بورڈ ترتیب دے لیں جو نئے شامل کردہ الفاظ کی اسکریننگ کر سکیں۔ بےشک وہ لفظ شامل کرتے ساتھ ہی آن لائن آجائیں اور ان کی ایک کاپی ادارتی ٹیم کو ای میل ہوجائیں جو ان الفاظ کو دیکھ کر ضرورت سمجھیں تو مناسب ترامیم کر کے ان کو اپروو کردیں تاکہ وہ لفظ مستقلاً اردو لونگ لغت کا حصہ بن جائے۔ یہ امر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسکریننگ اور چیکنگ کی وجہ سے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکیں گے کہ توہین آمیز یا انتہائی فحش الفاظ یا کسی مخصوص انسانی لسانی گروہ کے خلاف نفرت آمیز لفط نہ شامل ہوجائیں جو کہ اوکسفرڈ کی پالیسی کے خلاف ہیں۔

لفظ شامل کیجیے کے علاوہ ایک آپشن معنی شامل کیجیے بھی شامل کرنا اہم ہے۔ اکثر اوقات پہلے سے موجود لفظ کے نئے معنی شامل کرنے کی انتہائی خواہش ہوتی ہے لیکن نئے معنی اسی لفظ کو بطور نیا لفظ شامل کیے بغیر سسٹم میں داخل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ایک اور دیرینہ اور دلی خواہش کہ اس ویب کی موبائل ایپ بھی جلد از جلد لائی جائے۔

میں زبانوں کی ترویج و فروغ کے حوالے سےکی جانے والی کاوشوں پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی شکرگزار ہوں ،بالخصوص اردو زبان کے لیے کی جانے والی تمام کاوشوں کو میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ اپنا قیمتی وقت مجھے دینے کے لیے آپ تمام پڑھنے والوں کا شکریہ بھی مجھ پر واجب ہے۔

ترویج دے رہا ہے جو اردو زبان کو
بے شک وہ باغبان ہے اردو زبان کا

(شاعر علی شاعر)

OxfordWords بلاگ اور تبصروں میں موجود خیالات اور دوسری معلومات لازمی طور پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے خیالات یا موقف کی ترجمانی نہیں کرتے۔

اوکسفرڈ کی زیرِ نگرانی