Essay 20writingcropped

کامیاب مضمون نویسی کے چند اصول


مضمون نویسی اردو زبان کی ایک اہم صنف ہے۔ مضون مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں جن میں  علمی ، ادبی ، سیاسی ، تحقیقی اور مذہبی  جیسے اقسام کے مضامین شامل ہیں۔ سنجیدہ مضمون سے لیکر مزاحیہ مضمون کوئی بھی قسم ہو سکتی ہے اور  یہ سب کسی بھی مضمون کی نوعیت یا موضوع پر منحصر ہے۔ کوئی بھی موثر مضمون تحریر کرنے سے پہلے  مضمون نویسی کے اصولوں کا جائزہ لینا ضروری ہو گا۔ مضمون تحریر کرنے کے کچھ زریں اصول و قواعد ہیں ۔مناسب ہو گا اگر ان اصولوں کا درجات بندی کے تحت ایک جائزہ لیتے ہوئے ان کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ مندرجہ ذیل نکات ایک موثر مضمون تحریر کرنے سے پہلے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ 

تعارفِ مضمون

نفس مضمون یا متن

وجوہات

ٹھوس دلائل

اختتام

تعارف: چونکہ یہ مضمون کا ابتدائی حصہ ہوتا ہے تو اس میں موضوع مختصر اور جامع ہونا ضروری ہے۔ تعارف میں موضوع اس قسم کا ہونا چاہیئے جو شروع ہی سے پڑھنے والی کی توجہ اپنی طرف راغب رکھے اور قاری کی دلچسپی قائم رہے۔

نفس مضمون: یہ وہ حصہ ہے جس میں  تعارف کی بنیاد پر موضوع  کو بیان کیا جاتا ہے ، دراصل یہ حصہ مضمون کی روح کہلاتا ہے جس میں متن بیان کیا جاتا ہے اور اصل موضوع کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اس حصے میں الفاظ یا جملوں میں کسی قسم کی تکرار موجود نہ۔ جملوں میں تکرار کے سبب  قاری کی توجہ کو زائل کرنے کا سبب ممکن  ہے لہذا اس سے پرہیز ضروری ہے۔ مواد عمدگی اور موضوع کے عین مطابق  پیش کیا جانا چاہیئے تاکہ موضوع اپنی مضبوطی قائم رکھے۔

وجوہات: اس حصے میں وجوہات مناسب ، شائستہ اور معقول ہونی ضروری ہیں اور مضمون کے عین مطابق بھی۔  

ٹھوس دلائل: دلائل  باقاعدہ تحقیق پر مبنی ہونے چاہیئں کیونکہ جس دور سے آج انسان کا تعلق ہے اس میں کسی بھی خبر کی تصدیق کرنا پلک جھپکتے ممکن ہے۔ لہذا اس امر کو ذہن میں رکھنا لازم ہے کہ دلیل مصدقہ ہو۔

اختتام: تمام دوسرے مندرجہ بالا عوامل پر طبع آزمائی کے بعد اس اختتامیہ حصے میں موضوع کے مطابق واضح نکات پیش کرنے کا پہلو بیحد اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ اپنا موقف واضح کرنا بھی ضروری ہے

مضمون نویسی کی صلاحیت گو کہ قدرتی خوبی ہے  اور دیکھا جاتا ہے کہ کچھ افراد اس کمی کو بیحد محسوس کرتے ہیں ۔ اگر کسی بھی کام کی مشق بار بار کی جائے تو ایسی کمی یا مشکل پر  با آسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔

کسی بھی موضوع کو تحریر کرنے کے لیئے انسانی مشاہدہ اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا قوتِ مشاہدہ وسیع اور گہرا ہونا ضروری ہے ۔ ذرائع ابلاغ سے گہرا تعلق اور کتب و رسائل اور اخبارات کا مطالعہ ہونا ایک اہم امر مانا جاتا ہے۔ صرف سن لینا یا پڑھ لینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر دسترس حاصل کرنا صرف مشق سے ہی ممکن ہے۔ اس لیئے ضروری ہے کہ مختلف موضوعات پر وقتاً فوقتاً تحریر کرتے رہنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ مضمون کے اختتام پر جب سمجھا جائے کہ اب اس پر مذید لکھنے کی گنجائش  نہیں تو ازحد اہم پہلو ہے کہ مضمون پر نظر ثانی کی جائے اور الفاظ کی اصلاح و تصحیح کی جائے کیونکہ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے  کہ  صرف و ںحو اور جملوں میں غلطیاں مضمون  کی خوبصورتی کو ماند کر دیتی ہیں اور قاری کے تسلسل کو بے ربط اور بے مزہ کر دیتی ہیں۔ 


<<اوکسفرڈ لِونگ ڈکشنریز سے تحریر، صرف و نحو اور روزمرہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں<<


OxfordWords بلاگ اور تبصروں میں موجود خیالات اور دوسری معلومات لازمی طور پر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے خیالات یا موقف کی ترجمانی نہیں کرتے۔

اوکسفرڈ کی زیرِ نگرانی