Learn urdu808x234

صحتِ تلفّظ

زبان بولنے اور لکھنے کے لیے الفاظ کی صحیح آوازوں سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ کسی لفظ کی صحیح آواز کو واضح کرنے کے لیے اس پر زیر،زبر پیش وغیرہ لگانے کو اعراب لگاناکہتے ہیں۔

1 اعراب کی وضاحت:

زبر ( َ) زیر۔ ( ِ ) پیش ( ُ ) کی ان علامتوں کو حرکات کہتے ہیں جس حرف پر ان تینوں حرکات میں سےکوئی حرکت ہو اُسے متحرک کہتے ہیں، مثلاً قَلم کے لفظ میں "ق" اور "ل" متحرک ہیں۔ ان حرکات کی پہچان ہم یوں کرسکتے ہیں: بَن، بِن، بُن

2 سکون یا جزم :

جیسا کہ اپنے نام سے ظاہر ہے، وہ حرف جو متحرک نہ ہو وہ ساکن کہلاتا ہے۔ ہر لفظ متحرک اور ساکن حروف سے مل کر بنتا ہے۔ ساکن حرف پر جو علامت لکھی جاتی ہے اسے سکون (۔ ) یا جزم کہتے ہیں مثلاً انسان میں "ن" ساکن ہے، یا کمال میں ل ساکن ہے۔ عموماً اردو الفاظ کا آخری حرف ساکن ہوتا ہے۔

3 تشدید: ( ّ)

کسی لفظ میں جب کوئی حرف ایک ساتھ دوبار پڑھا جائے تو اسے دوبار لکھنے کی بجائے اس پر تشدید کی علامت لکھ دی جاتی ہے۔ اس صورت میں پہلا حرف ساکن جبکہ دوسرا متحرک ہوتا ہے۔ جس لفظ پر تشدید لکھی جائے اسے 'مشّدد' کہتے ہیں مثلاً منوّرہ کے لفظ میں "و" مشدد ہے۔

4 "ن" کی دو حالتیں :

حرف ن کی دو حالتیں ہیں۔ بعض الفاظ میں اس کی پوری آواز نکلتی ہے مثلاً کسان، دھان، وغیرہ لیکن بعض الفاظ میں اس کی آواز پوری ادا نہیں ہوتی، مثلاً دھواں، کنواں، سانپ، اینٹ وغیرہ۔ اس قسم کے نون کو "نون غنہ" کہتے ہیں اگر یہ کسی لفظ کے آخر میں آئے تو نون پر نقطہ نہیں لگاتے اور اگر لفظ کے بیچ میں آئے تو اس لفظ پر باریک سا نون کا نقطہ دے کر لکھ دیتے ہیں۔

5 مد:

مد کے معنی ہیں کھینچنا، لمبا کرنا۔ تلفظ کی اصطلاح میں حرف کی آواز لمبی کرنے کو مد کہتے ہیں۔ اردو میں مد کی علامت صرف الف پر لگائی جاتی ہے (آ) جسے الف ممدودہ کہتے ہیں۔ اس کی آواز الف کی آواز سے لمبی ہوتی ہے۔ مثلاً آم، آج، آن، وغیرہ۔

6  کھڑی زبر: ( ٰ )

بعض اوقات الف لکھنے کی بجائے حرف پر ایک چھوٹی سی الف کی شکل بنا دی جاتی ہے، اسے کھڑی زبر کہتے ہیں۔ تلفظ میں یہ الف کی قائم مقام ہے۔ یہ علامت عربی الفاظ میں استعمال کی جاتی ہے، مثلاً اسحٰق، موسیٰ، اعلیٰ، عظمیٰ، وغیرہ۔

7 کھڑی زیر : ( ٖ )

بعض اوقات 'ی' لکھنے کی بجائے حرف کے نیچے ایک چھوٹی سی الف کی شکل بنا دی جاتی ہے، اسے کھڑی زیر کہتے ہیں۔ تلفظ میں یہ 'ی' کے قائم مقام ہے۔ یہ علامت عربی الفاظ میں استعمال کی جاتی ہے، مثلاً اٰلہٖ، بعینہٖ

8 الٹا پیش : ( ٗ )

یہ علامت واؤ یا پیش کے قائم مقام ہے۔ مثال کے طور پر ’مجھ‘ اور ’تجھ‘ میں م اور ت دونوں پر پیش ہے۔

9  تنوین : ( ً۔۔ )

اگر کسی لفظ کے اوپر دو زبر اس کے نیچے دو زیر یا اس کے اوپر دو پیش لگا دیں تو اسے تنوین کہتے ہیں۔ ایسے حروف کو یوں پڑھا جاتا ہے جیسے ہم اس حرف کی حرکت کے ساتھ نون ساکن ملا رہے ہوں، مثلا آناً فاناً، فوراً۔

10 واؤ معروف اور واؤ مجہول:

اگر واؤ سے پہلے حرف پر پیش لگا دیا جائے تو اس کی آواز پوری طرح ظاہر کرکے پڑھی جائے گی جیسے بوٹ ' خوب' نور اس کو واؤ معروف کہتے ہیں۔

اس طرح جب واؤ کی آواز پوری طرح جما کر نہیں نکالی جائے بلکہ کسی قدے کھینچ کر بولا جائے تو یہ صورت واؤ مجہول کی ہے۔ اس صورت میں واؤ پر کوئی علامت نہیں لگائی جاتی، مثلاً سوچو، بولو، روکو، وغیرہ۔

 11 یائے معروف اور یائے مجہول:

جس "ی" کے پہلے حرف کے نیچے زیر ہوگی اسے خوب ظاہر کر کے پڑھیں گے جیسے تیر، تیتر، کھیر، وغیرہ ایسی ی کو یائے معروف کہتے ہیں۔

 دوسری طرف جس ی سے پہلے حرف پر علامت نہیں ہو گی اس کویائے مجہول کہتے ہیں۔ یہاں یہ کی آواز کو کھینچ کر اور لمبا کر کے پڑھتے ہیں، مثلا شیر، بیر، ہیر پھیر، وغیرہ۔ اس صورت کو یائے مجہول کہتے ہیں۔

ہر زبان کی درست ادائیگی میں اس کے تلفظ اور اصولِ تلفظ کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر تلفظ صحیح ادا نہ کیا جائے تو الفاظ کے معنی بدل جاتے ہیں۔ خصوصاً اردو زبان جو عربی، فارسی، ہندی، اور اب انگریزی کے الفاظ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اس میں تلفظ کی بہت اہمیت ہے۔ اردو زبان کے بعض الفاظ کے ہجے ایک جیسی ہوتے ہیں، اس لیے ان الفاظ میں امتیاز ان کے تلفظ اور ان پر موجود حرکات سے کیا جاتا ہے، جیسے: عَلَم اور عِلم، ان دونوں الفاظ کے اجزائے ترکیبی ایک ہی ہیں پر ان کے معنی میں فرق ان پر موجود حرکات کی مدد سےبآسانی کیا جاسکتا ہے، یعنی عَلَم کے معنی پرچم کے ہیں جبکہ عِلم کے معنی جاننا ہیں۔

امید ہے درج بالا حرکات و اعراب کا تعارف اردو الفاظ کے درست تلفظ میں آپ کی رہنمائی کرے گا۔

See more from تلفظ اور املا​