Many808x234

الفاظ کی جمع بنانا

جمع کا صیغہ: وہ لفظ جو ایک سے زائد اشیا کا احاطہ کرتا ہے، یا وہ لفظ جو دو یا دو سے زائد اشیا پر مشتمل ہو۔ یہ وہ اسم ہے جو افراد، اشیا، مقامات، جانوروں وغیرہ کی اجتماعی ہئیت کو  ظاہر کرے، مثلاً مکاتب، عورتیں، مدارس، طلبہ، کتابیں، عمارتیں، وغیرہ۔

اردو میں ساخت کے اعتبار سے جمع کی چار اقسام ہیں:

  1. جمع سالم
  2. جمع مکسر
  3. جمع الجمع
  4. اسم جمع


جمع سالم

جب واحد سے جمع بنانا مقصود ہو اور اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ واحد اسم کے کسی بھی حرف میں کوئی تبدیلی نہ ہو تو اس صورت میں واحد کے آخر میں کچھ حروف کا اضافہ کر کے اسے جمع بنا لیا جاتا ہے، اسے جمع سالم کہتے ہیں۔

جمع سالم کی امثال

اختلاف

اختلافات

دل

دلوں

اعلان

اعلانات

عمارت

عمارتیں

بوتل

بوتلیں

قائد

قائدین

تابع

تابعین

سڑک

سڑکیں

جالی

جالیاں

منتظم

منتظمین


جمع مکسر

واحد سے جمع بناتے وقت واحد اسم کے حروف کی ترتیب بدل دی جائے یا واحد کے کچھ حروف ختم کر دیے جائیں تو اسے جمع مکسر کہتے ہیں۔

جمع مکسر کی امثال

تجویز

تجاویز

شاعر

شعرا

خاتون

خواتین

کتاب

کتب

رائے

آرا

مقصد

مقاصد

سطر

سطور

موت

اموات

شیطان

شیاطین

وزن

اوزان

علم

علوم

وسوسہ

وساوس

غیر

اغیار

وظیفہ

وظائف


جمع الجمع

بعض اوقات کچھ الفاظ کی جمع بنا کر ان کی ایک بار پھر جمع بنالی جاتی ہے، اس  طرح کی جمع کو جمع الجمع کہا جاتا ہے۔

جمع الجمع کی امثال

امکان

امکنہ

اماکن

خبر

اخبار

اخبارات

اثر

آثار

آثارات

دوا

ادویہ

ادویات

ارض

اراضی

اراضیات

رسم

رسوم

رسومات

اسم

اسما

اسامی

رکن

ارکان

اراکین

امر

امور

امورات

عجیب

عجائب

عجائبات

جوہر

جواہر

جواہرات

فتح

فتوح

فتوحات

حاجت

حاجات

حوائج

لازم

لوازم

لوازمات

حادثہ

حوادث

حوادثات

لقب

القاب

القابات

حکم

احکام

احکامات

وجہ

وجوہ

وجوہات


اسم جمع

بعض اسم ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ساخت کے اعتبار سے واحد معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ جمع کے معنی دیتے ہیں، ایسےاسم کو اسم جمع کہا جاتا ہے۔

اسم جمع کی امثال

انبار

دستہ



بنڈل

ذخیرہ



ٹولی

ریوڑ



ٹیم

قطار



جھنڈ

گلدستہ



جماعت

محفل



اردو زبان کی لچک اور تنوع کے باعث اس میں مختلف زبانوں سے الفاظ شامل ہوتے اور اس کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے ساتھ اپنی کچھ قواعدی حیثیت بھی ساتھ لاتے ہیں۔ اردو میں ہندی اور عربی قواعد کے اثرات غالب ہیں۔ خاص طور پر واحد جمع بنانے کے لیے عربی، ہندی، فارسی تینوں زبانوں کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔


عربی قواعد  کے تحت اردو میں جمع:

عربی میں الفاظ بنانے کے لیے مخصوص اوزان وضع کیے گئے ہیں۔ اردو کے پرانے قواعد نویسوں نے عربی کے 29 اوزان جمع کیے تھے، تاہم یہ سارے اوزان اردو میں مستعمل نہیں۔ ذیل میں چند مشہور اوزان بمع امثال پیش ہیں۔

مَفاعِل: مَجالس، مَصارِف، فَضائِل، قَبائِل، مَظالِم

فُعَلاء: عُلَما، رُؤَسا، اُمَرا

فَعالِیل: مکاتِیب، مضامِین، اقالِیم،

فُعُل: کُتُب، رُسُل،

فُعُول: نُفُوس، نُجُوم، نُقُوش،

اَفعال: اَسرار، اَطفال، اَہداف،

فُعّال: عُمّال، حُکّام، حُجّاج، عُشّاق، خُدّام

فِعال: نِکات، جِہات، خِصائل، عِظام، کِبار

فِعَل: حِصَص، قِصَص، ِسیَر (سیرت کی جمع)

فَعَلات: دَرَجات، حَشَرات، غَزَوات، عَزَلات


ہندی قاعدے پر جمع بنانا:

ہندی میں جمع بنانے کے لیے کچھ لاحقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ لاحقے کبھی لفظ کے آخر پر یونہی آ جاتے ہیں تو کبھی آخری حرف کو ہٹا کر اس کی جگہ لے لیتے ہیں، جیسے:

ات: کچھ اسما کے آخر میں لاحقہ "ات" لگا دینے سے جمع بن جاتی ہے، جیسے اعتراف سے اعترافات، اختلاف سے اختلافات، وغیرہ

ں: کسی مونث اسم کے آخر میں”یا“ ہو تو ایسی صورت میں صرف نون غنہ”ں“ لگادیتے ہیں، جیسے گڑیا سے گڑیاں۔

یں: دلھن سے دلھنیں، بوتل سے بوتلیں،  کتاب سے کتابیں ، وغیرہ

اں: اگر کسی اسم کے آخر میں یائے معروف”ی“ ہو تو”اں“ کا اضافہ کردیتے ہیں جیسے: کہانی سے کہانیاں، لڑکی سے لڑکیاں، وغیرہ

ئیں: اگر اسم کے آخر میں ”اں“ ہو تو پھر اس صورت میں ”ئیں“ سے بدل دیا جاتا ہے جیسے دھواں سے دھوئیں، کنواں سے کنوئیں وغیرہ۔

وں: پہاڑ سے پہاڑوں، گانا سے گانوں، وغیرہ

ؤں: پہلو سے پہلوؤں، جگنو سے جگنوؤں، آرزو سے آرزوؤں، وغیرہ

ے : اگر اسم کے آخر میں ”ا“ ”یا“ ”ہ“ ہو تو ایسی صورت میں اسے یائے مجہول ”ے“ سے بدل لیتے ہیں جیسے گھوڑا سے گھوڑے، ، بندہ سے بندے، وغیرہ۔

یوں: بیس سے بیسیوں، وغیرہ

See more from اسما​