Urdu header 530x226

اوکسفرڈ کے کہانی نویسی کے مقابلے میں تیسرا انعام پانے والی کہانی

اوکسفرڈ اردو ڈکشنری نے 2018 کا مضمون/کہانی نویسی کا مقابلہ منعقد کروایا جس کا عنوان تھا، وہ واقعہ جس نے مجھے اردو سے محبت پر مجبور کر دیا۔

یہ مقابلہ 14 سے 16 برس کے طلبہ و طالبات کے لیے تھا جس میں انھیں کوئی ایسا واقعہ یا کہانی بیان کرنا تھی جس کے بعد ان کے دلوں میں اردو کی محبت مزید اجاگر ہو گئی۔

اس مقابلے میں ہمیں نہ صرف پاکستان کے طول و عرض سے بڑی تعداد میں کہانیاں موصول ہوئیں بلکہ ہندوستان سے دیوناگری رسم الخط میں لکھی ہوئی کئی کہانیاں بھی شریکِ مقابلہ ہوئیں۔ 

ہمارے مصنفین نے نہایت محنت اور دقت نظری سے ایک معین نظام کے تحت ہر کہانی کی درجہ بندی کی جس کے نتائج درجِ ذیل ہیں:

اس مقابلے کی فاتح نویں جماعت کی طالبہ سیدہ زینب عابدی ہیں جن کی عمر 14 سال ہے اور ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

یہ کہانی مقابلے کے مصنفین کو اپنے تخلیقی انداز اور بیان کی سادگی اور تاثیر کی وجہ سے پسند آئی۔

اوکسفرڈ اردو ڈکشنری کی ٹیم زینب کو ان کی اس کامیابی کے لیے تہہِ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہے۔

تحریر: فاکہہ قاسم

اردو زبان کی چاشنی اور مقبولیت کے بارے میں کوئی دو آرا نہیں ہیں۔ مادری زبان ہونے  کے باوجود میری انسیت اردو کے ساتھ اس لیے پروان نہ چڑھ سکی کیونکہ میں نے اپنی بنیادی تعلیم ہند انگلستان سے حاصل کی اردو کی چیزیں سمجھنا میرے لئے دشوار ہوتا تھا۔ ٹی وی پر خبریں سنتی تواس میں استعمال ہونے والے کافی الفاظ سر سے گزر جایا کرتے اسی طرح اپنے دادا کو اخبار پڑھ کر سنانے کی اکثر ناکام کوشش کرتی تھی۔

جب بھی موسم گرما کی تعطیلات میں ننھیال جایا کرتے تو سب کا پسندیدہ موضوع میرے ماموں کی شادی ہوتا تھا جس پر گھنٹوں لاحاصل بحث ہوا کرتی تھی۔ ماموں کسی بھی صورت شادی کے لیے آمادہ نہ ہوتے، مگر ایک جوش میں آ کرانھوں نے مجھے چیلنج کیا کہ اگر میں اردو میں رشتے کے لیے ایک اشتہار بناؤں اور وہ اخبار میں چھپ جائے تو وہ شادی کے لیے راضی ہو جائیں گے۔ سب لوگوں نے مجھ سے امیدیں وابستہ کر لیں، مگر میں اس کام کے لیے سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگی۔ اردو سے تو ویسے ہی میری دوستی نہ  تھی، اوپر سے اس زبان میں اخبار کا اشتہار تحریر کرنا پڑ گیا تو میرے تو پسینے ہی چھوٹ گئے۔ بہرحال میں دن رات ایک کرکے اشتہار بنایا جو کچھ یوں تھا:

’ہمیں 30سال کے لڑکے کے لیے رشتہ چاہیے، لڑکی خوبصورت ہو، قد میں لمبی ہو، پڑھی لکھی ہو اور کھانا پکانا جانتی ہو۔ لڑکا ایم بی  اے ہے اور لاہور میں رہتا ہے۔ ان کا اپنا ذاتی گھر اور گاڑی ہے۔ جو بھی خواہش مند ہو وہ اس نمبر پر کال کرے۔‘

ماموں کو یہ اشتہار دکھایا تو ان کی ہنسی ہی نہ رکے۔ مجھے حیرت ہوئی کیوں کہ میرا خیال تھا کہ اردو سیدھی سادھی زبان ہے، تو اس سے بہتر اشتہار اور کیا ہو گا۔ مگر ماموں نے پھر مجھے ایک اشتہار بنا کر دکھایا جو کچھ یوں تھا:

ایک نوعمر شہزادہ، نیک چلن اور سادہ، پست کم لمبا زیادہ، گورا بدن، شیرین دہن، گھنگھریالے بال، آسودہ حال، حسن کا دلدادہ، شادی پر آمادہ، ذات پات سے انکاری، اپنی سواری، خوبصورت جوان، اعلیٰ خاندان، عرصہ سے پریشان، کے لیے:

ایک حسینہ کنواری، دیکھنے میں پیاری، مثل حور، چشم مخمور، چہرہ پرنور، باتمیز و باشعور، صوم و صلوٰۃ کی پابند، کم عمر و صحت مند، باہنر اور سلیقہ مند، کم گفتار، باکردار ، باادب باحیا، سراپا مہرووفا، نہ شوقین سرخی و کریم، اعلیٰ تعلیم، بےحد حسین، پردہ نشین، راضی بہ عقد، بوٹا سا قد، آہستہ خرام، شائستہ کلام، پیارا سا نام، عجوبۂ کائنات، رفیقۂ حیات درکار ہے، جس کے بغیر زندگی بیکار ہے، مزید بات چیت بالمشافہ، یا بذریعہ لفافہ، خط و کتابت پابندی صیغۂ راز ہے، کہ یہی شریفوں کا انداز ہے۔

اس اشتہار کو پڑھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں نے اردو کو جتنا معمولی سمجھا وہ اس کے بالکل برعکس نکلی، مجھے یہ معلوم ہوا کہ اردو نہایت خوبصورت زبان ہے، اس میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ وہ دن ایسا تھا کہ مجھے پہلی بار اپنی قومی زبان میں دلچسپی ہوئی۔ لہٰذا میں نے بہت خوشی کے ساتھ اردو کی مختلف کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ مشکل الفاظ کے مطلب تلاش کیے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میں مشکل الفاظ و اشعار سمجھنے لگی۔ بےشک اردو ایک قابلِ رشک زبان ہے، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ 

See more from اردو مطالعہ