Writing808x234

پطرس بخاری

اردو کے مزاح نگار انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اردو میں لطف اور شگفتگی نہیں، ذومعنویت نہیں، اسلوب میں گہرائی نہیں یا موضوعات میں وسعت نہیں، یقیناً اردو ان تمام صفات سے متصف ہے لیکن مجھے اس اعتراف میں کچھ باک نہیں کہ اکثر مصنفین نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کے مضامین لکھنے کو ہی ترجیح دی۔

ایک وجہ اس قحط الرجال کی یہ بھی ہے کہ سنجیدہ مضامین، معاشرے کے جلتے بلتے موضوعات، یا مسائل و پریشانیوں سے مبرا حالات تو سب کے سامنے ہوتے ہیں اور ان پر لکھنا آسان، لیکن کوئی کوئی ایسا قادرالکلام، صاحبِ نظر، نکتہ رس، بذلہ سنج، شگفتہ لیکن حساس انسان ہی ہوتا ہے جو ان سب مسائل سے پرے کوئی ایک وجہ ایسی ڈھونڈ لاتا ہے جو پریشانیوں میں گھرے نفوس کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ بکھیر دے۔ بلاشبہ یہ بڑی خدمت ہے۔

اردو زبان کے مزاح نگاروں کا جب بھی نام لیا جائے گا سب سے پہلا نام جو ذہن کی اسکرین پر چمکے گا وہ احمد شاہ پطرس بخاری ہی کا ہوگا۔  پطرس اردو کے ان ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے بہت کم لکھا لیکن جو بھی لکھا اس کی بدولت ادب عالیہ میں ان کی ساکھ قائم ہو گئی۔ احمد شاہ پطرس بخاری کو اگر عجوبہ روزگار کہا جائے تو کچھ عجب نہ ہو گا۔ گورنمنٹ کالج کے مایہ ناز، خوبرو، جواں سال پروفیسر، اور وہ بھی انگریزی زبان کے، جی ہاں بول چال نشست و برخاست میں انتہائی نستعلیق، نفیس شخصیت، بنا رکے اہل زبان جیسی رواں غلطی سے پاک انگریزی بولنے والے کیمبرج سے نمایاں کامیابیاں سمیٹ کر فارغ التحصیل ہونے والے احمد شاہ جب لکھتے ہیں تو اردو کو ذریعہ اظہار بناتے ہیں اور مزاح کو اپنا میدان۔ یہ نہیں کہ پطرس نے صرف مزاح ہی لکھا، پطرس منفرد انشا پرداز، مترجم اور نقاد بھی تھے۔ اس کے علاوہ اقتدار کے ایوانوں سے گزرتے ہوئےحکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں نمائندگی بھی کی لیکن اس سب کے باوجود ان کا مزاح ہر کارنامے پر بازی لے گیا۔ آج بھی مضامین پطرس جیسے چھوٹی اور منحنی ضخامت کی کتاب اردو مزاح کے ماتھے پر جھومر کی طرح آویزاں ہے۔

 پروفیسر سید احمد شاہ پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان دنوں پطرس کے والد سید اسد اللہ شاہ بخاری بسلسلہ ملازمت قیام پذیر تھے۔ آٹھ برس کی عمر میں والدہ چل بسیں لیکن یہ خوش نصیبی کہ سوتیلی ماں نے اپنی شفقت و محبت کی بدولت انہیں اس محرومی کا احساس نہ ہونے دیا۔ ابتدائی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی یعنی  ناظرہ قرآن کریم، اور ضروری دینی تعلیم اور اس زمانے کے رواج کے مطابق گلستاں بوستاں فارسی میں پڑھی۔  نو برس کی عمر میں مشن اسکول میں داخل ہوئے۔ سکول کے زمانے میں بھی اپنی ذہانت اور غیر معمولی لیاقت و استعداد کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1913 میں امتیازی حیثیت سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1915 میں اسلامیہ کالج سے ایف اے اور 1917 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج میں بھی اپنی متنوع خوبیوں کے باعث نمایاں ہوگئے، یوں 1919 میں انہیں کالج میگزین ’راوی‘ کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ گورنمنٹ کالج میں انگریزی زبان و ادب سے ایسا لگاؤ پیدا ہوا کہ پوری یونیورسٹی میں اول آئے۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب کا امتحان پاس کیا۔ انگلستان سے واپس آ کر کچھ ہی عرصے بعد گورنمنٹ کالج میں انگریزی ادبیات کے پروفیسر اور کچھ عرصے بعد اسی شعبے کے چیئرمین تعیانت ہو گئے۔ 1937 میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو کر دہلی میں سٹیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ 1938 میں انہیں ڈپٹی کنٹرولر اور 1940 میں کنٹرولر جنرل مقرر کیا گیا۔ 1947 میں پھر اپنے پرانے شعبے کی طرف رجوع کیا اور گورنمنٹ کالج کے پرنسپل بنے۔ 1948 میں حکومت پاکستان نے انہیں انڈیا آفس کی املاک کی تقسیم کے لیے لندن بھیجا۔ پھر کئی سال تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے کام سرانجام دیتے رہے اور پاکستان کے مسائل کو بڑی خوش اسلوبی سے وہاں پیش کرتے رہے۔ اپنی اس ذہانت، معاملہ فہمی اور تدبر کی وجہ سے 1955 میں اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات کے ڈپٹی سیکریٹری مقرر ہوئے۔ کئی سال تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی خدمت کرتے ہوئے پانچ دسمبر 1958 کو نیویارک میں حرکت قلب بند ہونے کی باعث اس جہان فانی کو خیر باد کہہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔

ان کی پہلو دار شخصیت میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو دنیا کے عظیم انسانوں میں ہوتے ہیں۔ کالج میں ہیں تو ایک اچھے استاد اور ماہر فن کی حیثیت سے طلبہ کے سامنے نمودار ہو رہے ہیں۔ ریڈیو اسٹیشن پر ہیں تو اپنی صلاحیتوں سے اسے دلچسپ سے دلچسپ بنانے میں کوشاں ہیں۔ کسی تھیئٹر ہال میں ہیں تو اپنی ہدایات سے اسے شاندار و جاندار بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی مشاعرے یا مذاکرے میں ہیں تو ایسے ایسے مضامین اور باریکیاں پیدا کر رہے ہیں کہ لوگ سر دھن رہے ہیں۔ کہیں تقریر کر رہے ہیں تو اپنے دلائل سے لوگوں کو ہمہ تن گوش کر رہے ہیں، ملک و ملت کے نمائندے بن کر کا انجام دے رہے ہیں تو اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔  چونکہ انہیں اردو، فارسی، انگریزی، پشتو، فرانسیسی زبان میں ملکہ حاصل تھا اس لیے اپنی ہر تحریر او تخلیق کو ایسا جاذب نظر اور دلکش بنا دیتے تھے کہ ان کا مخاطب داد دیے بغیر نہ رہ پاتا تھا۔

پیراحمد شاہ بخاری سے پطرس بننے کا واقعہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ بخاری صاحب انگریزی ادب میں اپنے استاد پیٹر ویٹکنز سے متاثر تھے۔ ان کے استاد بھی ان کے نام کے پہلے حصے ’پیر‘ کو فرانسیسی لفظ ’پیرے‘ اور اس کے انگریزی متبادل ’پیٹر‘ کی نسبت سےانھیں پیٹر کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ استاد کے اسی احترام میں انگریزی تخلیقات کا قلمی نام پیٹر اختیار کیا۔ جب اردو لکھنے لکھانے کی جانب سلسلہ شروع ہوا تو پیٹر کا معرب ’پطرس‘ اپنا لیا۔

اب بات ہوجائے ان کے ادبی کارنامے ’مضامین پطرس‘ کی جس شاہکار کی وجہ سے اردو کے انشائیہ ادب اور مزاح نگاروں میں انہیں فوقیت، عظمت اور دوام حاصل ہوا ہے۔ اس میں وہ تخلیقات شامل ہیں جنھیں انھوں نے زمانۂ طالبعلمی میں 1920 تا 1921 لکھا اور کالج کے میگزین ’راوی‘ کو اپنے ان گلدستوں سے مزین کرتے رہے۔ پطرس کا یہ زمانہ شباب رنگین کا وہ دور تھا جس میں ہر نوجوان عالم وارفتگی سے دوچار ہو کرعموماً شعرو شاعری اور حسن و عشق کے جلووں میں کھو جاتا ہے۔ لیکن پطرس کا یہ کمال ہے کہ اس عمر میں بھی وہ معاشرے کی ان خرابیوں کو دیکھ رہے ہیں جن کی وجہ سے سوسائٹی کی مضبوط عمارت شکست و ریخت کا شکار ہو رہی تھی۔ وہ اس عمارت کے اندر جھانک کر طنز و مزاح کے پردے میں ہمیں ان حرکات سے باز رہنے کی طرف ہلکا سا اشارہ کرکے اپنا اخلاقی فرض پورا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل 11 مضامین میں وہ معاشرے کی کسی نہ کسی خامی پر مزاحیہ اور ہمدردانہ انداز میں روشنی ڈالتے نظر آ رہے ہیں۔

طلبہ کی نمائشی زندگی اور ان کی ظاہر پرستی کی وجہ سے طلبہ میں در آنے والے کھوکھلے پن کو انہوں نے ’ہاسٹل میں پڑنا‘ میں بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔  یہ مضمون لکھنے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ہاسٹل کی زندگی کے کسی اور پہلو کو اجاگر کر کے انہیں اجتناب کی تلقین کی جائے چنانچہ ’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی‘ میں انہوں نے طلبہ کی نفسیات کے ساتھ ساتھ ان کی روش، خود فریبی، افتاد طبع اور سہل پسندی کو بڑے تیکھے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

’اردو کی آخری کتاب‘ کے عنوان سے انہوں نے ماں کی ان خوش فہمیوں اور اس کی نفسیات کو موضوع بنایا جس میں وہ بچے کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اپنا مفاد بھی پیش نظر رکھتی ہے۔  ’میں ایک میاں ہوں‘ میں پطرس نے ازدواجی زندگی کو بے نقاب کیا اور میاں بیوی کے احساسات و جذبات کی روشنی میں ایک تنک مزاج بیوی کی نفسیات کو موضوع بنایا۔ ’مرید پور کا پیر‘ میں انھوں نے لیڈروں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی خامیوں کو بیان کیا۔

’انجام بخیر‘ میں انہوں نے استاد کی ساری زندگی کو بڑی خوبی اور چابکدستی سے صفحہ قرطاس پر پیش کیا۔ ’سینما کا عشق‘ میں انہوں نے ایسے دوستوں کے بارے میں بیان کیا جو اپنا وقت تو ضائع کرتے ہیں اور اس کا الزام دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں۔ ہیں۔ ’میبل اور میں‘کے عنوان سے انہوں نے ان لوگوں کو موضوع بنایا ہے جو دوسروں کو اپنی ظاہری شخصیت کے فریب میں مبتلا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’مرحوم کی یاد میں‘ متوسط طبقہ کے ایک مجبور و بے بس انسان کی زندگی سامنے آتی ہے  تو ’لاہور کا جغرافیہ‘ میں پطرس نے بلدیہ لاہور پر بھر پور طنز کیا ہے جس میں شہر کے نظام تعلیم کی خرابی، عمارات کا اشتہاروں سے گندا ہونا، ذرائع آمد و رفت کا تسلی بخش نہ ہونا اور بلدیہ کے ارباب حل و عقد کا شہری مسائل سے تغافل برتنا شامل ہیں۔

پطرس ایسے بلند پایہ ادیب ہیں جنہوں نے اردو کو ایسے خالص مزاح سے روشناس کروایا جس میں ہلکا سا طنز تو ہے پر شدید قسم کی نشتریت نہیں ہے۔ وہ معاشرے کے افراد کو ان کوتاہیوں سے آگاہ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن شفقت و پیار کے لہجے میں وہ اسے کچو کے لگا کر مجروح نہیں کرنا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ قاری بات کو تسلی سے سنے اور سمجھے کہ لکھاری کیا دکھانا چاہتا ہے۔ پطرس کی ایک خصوصیت اور خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے انگریزی ادب کے مطالعے کی روشنی میں طنز و مزاح کی تمام لطافتوں اور خوبیوں کو اپنے فن میں سمو دیا اور عامیانہ پن اور ابتذال کو اپنے فن میں ملوث نہیں ہونے دیا۔ وہ اس گر سے بھی واقف ہیں کہ کرداروں کی عادات اور خصائل کو اس طرح سے پیش کیا جائے کہ ان کی خامیوں اور برائیوں سے خود بخود مزاح کا رنگ پیدا ہوجائے۔

الغرض، پطرس کو بات کہنے کا سلیقہ معلوم ہے۔ وہ معمولی بات کو بھی اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ اس میں ندرت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی ندرت اور انوکھے پن نے  ان کے فن کو انفرادیت بخشی ہے۔

See more from اردو مطالعہ